سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 520 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 520

۵۲۰ اہل وعیال پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو منظور فرما لیا کیونکہ گوموسوی شریعت کی رو سے یہ سب لوگ واجب القتل تھے اور معاہدہ کی رو سے ان لوگوں پر موسوی شریعت کا فیصلہ ہی جاری ہونا چاہئے تھا۔مگر اس قوم کا یہ پہلا جرم تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیم و کریم طبیعت انتہائی سزا کی طرف جو ایک آخری علاج ہوتا ہے ابتدائی قدم پر مائل نہیں ہوسکتی تھی ،لیکن دوسری طرف ایسے بد عہد اور معاند قبیلہ کامدینہ میں رہنا بھی ایک مارآستین کے پالنے سے کم نہ تھا۔خصوصاً جب اوس اور خزرج کا ایک منافق گروہ پہلے سے مدینہ میں موجود تھا اور بیرونی جانب سے بھی تمام عرب کی مخالفت نے مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہوسکتا تھا کہ بنو قینقاع مدینہ سے چلے جائیں۔یہ سزا ان کے جرم کے مقابل میں اور نیز اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کا پہلو بھی مد نظر تھا۔ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک نقل مکانی کوئی بڑی بات نہ تھی۔خصوصاً جبکہ کسی قبیلہ کی جائیدادیں زمینوں اور باغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں۔اور پھر سارے کے سارے قبیلہ کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر آباد ہونے کا موقع مل جاوے۔چنانچہ بنو قینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے۔ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اور نگرانی وغیرہ کا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی عبادہ بن صامت کے سپر دفرمایا تھا جو ان کے حلفاء میں سے تھے۔چنانچہ عبادہ بن صامت چند منزل تک بنو قینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کر کے واپس لوٹ آئے کے مال غنیمت جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف آلات حرب اور آلات پیشہ زرگری پر مشتمل تھا۔ہے بنو قینقاع کے متعلق بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعوں کے دروازے کھول کر اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کر دیا تو ان کی بدعہدی اور بغاوت اور شرارتوں کی وجہ سے آپ کا ارادہ ان کے جنگجو مردوں کو قتل کرا دینے کا تھا مگر عبد اللہ بن ابی بن سلول رئیس منافقین کی سفارش پر آپ نے یہ ارادہ ترک کر دیا لیکن محققین نے ان روایات کو صحیح تسلیم نہیں کیا کیونکہ جب دوسری روایات میں یہ صریحا مذکور ہے کہ بنو قینقاع نے اس شرط پر دروازے کھولے تھے کہ ان کی اور ان کے طبقات ابن سعد جلد ۲ صفحه ۱۹ استثناء باب ۲۰ آیت ۱۲ تا ۱۴ ۳ : طبری صفحه ۱۳۶۱ سطر ۱۴ ، ۵: طبری صفحه ۱۳۶۱ زرقانی جلد اصفحہ ۷ ۴۵۸،۴۵