سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 36 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 36

۳۶ تھے۔حدیث میں امام مالک ان کے شاگرد تھے ، مگر افسوس کہ ان کی کتاب بھی نا پید ہے۔۳- سیرۃ ابن اسحاق مصنفہ محمد بن اسحاق ابن اسحاق بھی امام زھری کے شاگردوں میں المتوفی ۱۵۱ھ سے تھے اور سیرۃ میں بڑا پایہ رکھتے ہیں۔ان کی کتاب سیرۃ و مغازی میں بطور بنیاد کے سمجھی گئی ہے اور اکثر بعد کے مؤرخین ان کے خوشہ چین ہیں۔بعض لوگوں نے ان کی ثقاہت پر شبہ کیا ہے مگر یہ درست نہیں ؛ البتہ چونکہ اُن کا طبعی میلان سیرۃ کی طرف تھا۔اس لئے حدیث کے سخت معیار کے مطابق وہ پورے نہیں اتر تے۔اسی لیے امام بخاری نے حدیث میں ان سے روایت نہیں لی لیکن تاریخ میں آزادی سے لی ہے۔ان کی کتاب عام طور پر نہیں ملتی لیکن ابن ہشام کی سیرۃ میں اس کا بیشتر حصہ اس طرح آگیا ہے کہ اصل کتاب کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔-۴- سیرۃ ابن ہشام مصنفہ عبدالمالک بن ہشام یہ بہت پایہ کے مؤرخ تھے اور نہایت ثقہ سمجھے المتوفی ۲۱۳ھ جاتے ہیں۔ان کی سیرت جو بیشتر طور پر سیرت ابن اسحاق پر مبنی ہے۔بہت جامع اور مکمل تصنیف ہے۔سیرت کی کتابوں میں ان کی سیرت سب سے زیادہ مقبول و متعارف ہے۔-۵ کتاب السيرة و مصنفہ محمد بن عمر الواقدی یہ صاحب بہت وسیع المعلومات مؤرخ تھے۔مگر کتاب المغازی ۱۳۰ھ تا ۲۰۷ھ چونکہ جھوٹ سچ اور صحیح وسقیم میں کوئی پر ہیز نہیں تھا