سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 494 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 494

۴۹۴ کنواری ہو یا بیوہ ہو بغیر شادی کے نہ رہے۔“ اس آیت میں غیر شادی شدہ عورتوں خصوصاً بیوگان کی شادی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْامَمَ یعنی « معقل بن سیار روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ تمہیں چاہئے کہ محبت کرنے والی زیادہ بچے دینے والی عورتوں کے ساتھ شادیاں کیا کرو ، تا کہ تمہاری تعداد ترقی کرے اور میں قیامت کے دن اپنی امت کی زیادتی پر فخر کر سکوں۔“ اس حدیث میں تکثیر نسل والی غرض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس طرح یہ کل سات اغراض ہوتی ہیں جو اسلام نے تعدد ازدواج کے متعلق بیان کی ہیں۔یعنی جسمانی اور روحانی بیماریوں سے حفاظت ، بقائے نسل ، رفاقت قلب محبت و رحمت کے تعلقات کی توسیع ، انتظام یتامی ، انتظام بیوگان اور ترقی نسل۔لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اغراض کو حاصل کس طرح کیا جاوے یعنی کس اصل کے ماتحت بیوی کا انتخاب کیا جاوے کہ یہ اغراض احسن صورت میں حاصل ہوسکیں۔سواس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لَأَرْبَعِ لِمَا لِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِ يُنهَا فَاظُفِرُ بِذَاتِ الدِّيْنِ تَرِبَتْ يَدَاكَ یعنی ” نکاح میں عورت کا انتخاب چار قسم کے خیالات کے ماتحت کیا جاتا ہے۔بعض لوگ عورت کی مالی حالت کی بنا پر بیوی کا انتخاب کرتے ہیں بعض کو حسب ونسب کا خیال ہوتا ہے۔بعض خوبصورتی اور حسن دیکھتے ہیں اور بعض لوگ عورت کی اخلاقی اور دینی حالت کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن اے مسلمانو! تمہیں چاہئے کہ تم ہمیشہ دینی پہلو کو ترجیح دیا کرو۔یہی تمہاری کامیابی کا طریق اور یہی دین و دنیا کی خرابی سے بچنے کا طریق ہے۔“ اس حدیث میں نکاح کی اغراض کے حصول کے لیے بیوی کے انتخاب کا اصول بتایا گیا ہے اور وہ یہ ل : ابوداؤ دو نسائی بحوالہ مشکوۃ کتاب النکاح : بخاری کتاب النکاح