سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 493 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 493

۴۹۳ اسلام نے تعد دازدواج کی بعض خاص وجوہات بھی بیان کی ہیں وہ تین ہیں۔اول حفاظت یتامی ، دوم انتظام بیوگان ، سوم تکثیر نسل۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَثَ وَرُبعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً اور ” اے مسلمانو! ( ان جنگوں میں جو تمہیں در پیش ہیں لاز ما یتامی کی کثرت ہوگی اور تمہیں ان بیتامی کی حفاظت کے لیے تعدد ازدواج کی ضرورت پیش آئیگی۔پس ) اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ (ایک بیوی تک محدود رہتے ہوئے ) تم بیتامی کی حفاظت اور ان کے حقوق کی خاطر خواہ ادائیگی سے قاصر رہو گے تو پھر اپنی پسند کے مطابق زیادہ عورتوں سے شادیاں کرو۔دو دو کے ساتھ ، تین تین کے ساتھ اور چار چار کے ساتھ ( مگر اس سے زیادہ نہیں کیونکہ خدا کی نظر میں یہ حد تمہاری استثنائی ضروریات کے لیے کافی ہے، لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ اپنی مالی یا جسمانی یا انتظامی کمزوری کی وجہ سے یا طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے ) تم ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ شادی کر کے ان کے ساتھ عدل نہیں کر سکو گے تو پھر تمہیں لازماً ایک ہی بیوی سے شادی کرنی چاہئے۔“ اس آیت کریمہ میں تعد دازدواج کے حکم کو یتامیٰ کے ذکر کے ساتھ ملا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دراصل یتامی کی کثرت بھی تعدد ازدواج کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے اور چونکہ یتامی کی کثرت ایک طرف تو بیو گان کی کثرت کو چاہتی ہے اور دوسری طرف وہ آئندہ کے لیے نسل کی قلت کا اندیشہ پیدا کرتی ہے اور ویسے بھی یہ تینوں حالتیں جنگ کا لازمی نتیجہ ہیں۔اس لیے گویا اس آیت میں ہی خدا تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرایہ میں تعدد ازدواج کی ساری زائد اغراض کو جمع کر دیا ہے۔یعنی حفاظت یتامی ، انتظام بیوگان اور علاج قلت نسل اور پھر مزید تشریح و توضیح کے لیے ان کا علیحدہ علیحدہ ذکر بھی کیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَاَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ یعنی ”اے مسلمانو! ( اب جب ہم نے تمہارے لیے تعد دازدواج کا استثنائی علاج تجویز کر دیا ہے تو ) اب تمہیں ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ حتی الوسع کوئی غیر شادی شدہ عورت خواہ وہ : سورۃ نساء : ۴ : سورة نور : ۳۳