سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 34
۳۴ صحابہ کے سامنے اپنے عمل سے اس کی ساری تفصیلات کر کے دکھا دیں اور عمر بھر اس تعامل کو تکرار کے ساتھ دُہراڈ ہرا کر ان کے ذہن نشین کرا دیا اور خود اپنی نگرانی میں ان کو نماز کی تفصیلات پر قائم کر دیا اور پھر صحابہ کے ذریعہ یہ تعامل تابعین تک پہنچا۔جنہوں نے صحابہ کی کسی زبانی تشریح سے نہیں بلکہ عملی تعامل سے اس کو صحابہ سے سیکھا اور اسی طرح یہ سلسلہ نیچے چلتا چلا گیا۔اسی طرح دوسرے مسائل کا حال ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کی اصل بنیاد قرآن شریف اور سنت پر ہے جو ابتداء سے ہی ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو چلے آئے ہیں اور حدیث صرف ایک زائد چیز ہے جو علمی تشریح یا ضمنی تائید وغیرہ کے لئے کام آ سکتی ہے ورنہ اس پر اسلام کی اصل بنیاد نہیں ہے، لیکن غلطی سے بعض لوگوں نے حدیث اور سنت کو ایک ہی چیز سمجھ رکھا ہے۔اس بحث کو ہمارے اس مضمون کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔مگر ہم نے خیال کیا کہ حدیث کے متعلق اس عام غلط فہمی کو اس جگہ دُور کر دیا جائے تا کہ نا واقف لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ نہ پیدا ہو کہ گویا اسلام کی بنیاد ایک ایسی چیز پر ہے جو ڈیڑھ دوسو سال بعد ضبط میں آئی ہے۔كتب تفسیر روایات کا دوسرا مجموعہ روایتی تفسیر سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں چونکہ قرآن شریف کی تشریح کا تعلق ہے جو زیادہ تر علمی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس علم میں بھی حدیث کے برابر احتیاط نہیں برتی گئی۔مگر بہر حال یہ بھی ایک مفید مجموعہ ہے جس کے متعلقہ حصوں سے سیرۃ و تاریخ کی تدوین میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ کی زیادہ معروف کتابیں جن میں منقولی اور روایتی طریق پر قرآن شریف کی تفسیر درج کی گئی ہے یہ ہیں : -1 تفسیر ابن جریر مصنفہ امام ابو جعفر محمد بن جریر منقولی تفسیر میں یہ سب سے جامع ۲۰ جلد) الطبرى مجموعہ ہے ، مگر اس مجموعہ میں کمزور ۲۲۴ھ تا ۳۱۰ھ روایات بھی شامل ہو گئی ہیں۔-۲- تفسیر ابن کثیر مصنفہ حافظ عمادالدین اسمعیل بن یہ تفسیر نہایت معتبر اور مستند سمجھی جاتی عمر ابن کثیر ہے جس کے متعلق علامہ زرقانی کا (۱۰ جلد ) ۷۰۰ تا ۷۷۴ قول ہے کہ اس جیسی اور کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔