سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 456 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 456

۴۵۶ محبت واخلاص کے تعلقات قائم ہو گئے تھے کہ آج کی حقیقی اخوت بھی ان کے سامنے شرماتی ہے۔میں جب اس زمانہ کے امریکن حبشی نام اور آج سے چودہ سو سال قبل کے عربی حبشی بلال کے حالات پر نگاہ کرتا ہوں تو ایک عجیب منظر نظر آتا ہے۔باوجود اس کے کہ یہ دونوں شخص حبشی ہیں اور دونوں آزاد شدہ غلام ہیں۔عربی غلام ( یعنی بلال ) جب بادشاہ وقت ( یعنی عمر بن الخطاب) سے ملنے کے لئے جاتا ہے تو باوجود اس کے کہ اس وقت بڑے بڑے رؤساء عرب بادشاہ کی ملاقات کے انتظار میں دروازے پر بیٹھے ہوتے ہیں۔بادشاہ وقت بلال کی خبر پاکر ان رؤساء عرب کو جو وہ بھی مسلمان ہی تھے نہیں بلاتا اور بلال کو فور ابلا لیتا ہے اور جب بلال ملاقات سے فارغ ہو کر چلا جاتا ہے تو پھر اس کے بعد ان رؤساء عرب کی باری آتی ہے اور جب اس بادشاہ کی مجلس میں بلال کا ذکر آتا ہے تو بادشاہ کہتا ہے ”بلال ہمارا سردار اے ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں امریکہ کے آزاد شدہ حبشی نام کی کیا حیثیت ہے؟ دنیا جانتی ہے کہ وہ اپنے آزاد کرنے والوں کے پاؤں کی ٹھوکریں کھاتا اور مجلسوں میں ذلت کی جگہوں میں بٹھایا جاتا اور ہر قسم کے مظالم ہتا اور دم نہیں مارسکتا۔یہ اختلاف کیوں ہے؟ یقیناً اس کی وجہ یہی ہے کہ اسلام نے جوطریق غلاموں کی آزادی کا اختیار کیا ، وہ حقیقی اصلاح کا طریق تھا۔پس اس کے نتیجہ میں حقیقی آزادی پیدا ہوئی لیکن مغربی مصلحین کی اصلاح ناقص اور ان کا طریق غلط تھا۔پس اس کے نتیجہ میں بیشک نام کو تو آزادی مل گئی مگر غلامی کی روح پر موت نہیں آئی اور ذمنیتیں وہی کی وہی رہیں۔دوسرا طریق اس سوال پر غور کرنے کا یہ ہے کہ یہ دیکھا جاوے کہ ان طریقوں میں سے کس طریق کے نتیجہ میں آزاد شدہ غلاموں نے زیادہ ترقی کی۔سو مذکورہ بالا بحث کے بعد اس سوال کا جواب بھی مشکل نہیں رہتا۔کیونکہ طبعا وہی رستہ غلاموں کی زیادہ ترقی کا ہونا چاہئے ، جس میں انہیں زیادہ حقیقی آزادی حاصل ہو۔اور وہ وہی تھا جو اسلام نے اختیار کیا۔مگر عملاً بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اس جہت سے بھی اسلامی طریق زیادہ کامیاب اور زیادہ مفید نظر آتا ہے کیونکہ اسلامی طریق پر آزاد ہونے والے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی نظر آتی ہے جو ہر قسم کے میدان میں ترقی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچے ہیں اور جنہوں نے مختلف شعبوں میں مسلمانوں میں لیڈر ہونے کا مرتبہ حاصل کیا۔مثلاً جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔صحابہ میں زید بن حارثہ ایک آزاد شدہ غلام تھے مگر انہوں نے اتنی قابلیت پیدا کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قابلیت کی وجہ سے بہت سی اسلامی مہموں میں انہیں امیر العسکر مقرر ل اصابه واسد الغابہ احوال بلال و ابوسفیان و سهیل بن عمر و