سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 455
۴۵۵ طریقوں کے نتائج کی نسبتی خوبی کا دو طرح پر امتحان کیا جا سکتا ہے۔اوّل اس پہلو سے کہ ان طریقوں میں سے کس طریقہ کے نتیجہ میں زیادہ حقیقی آزادی قائم ہوئی۔دوسرے اس پہلو سے کہ ان میں سے کس طریقہ کے نتیجہ میں آزاد شدہ غلاموں نے زیادہ ترقی کی۔اور ہم دعوئی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے وہ طریقہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو برس قبل اختیار کیا تھا اس طریق سے بدرجہا بہتر تھا ، جو بعض مغربی مصلحین نے اس زمانہ میں اختیار کیا ہے۔ظاہر ہے کہ صرف نام کے طور پر کسی غلام کو آزاد کر دینا مگر غلامی کی اصل روح کونہ مارنا ہرگز حقیقی آزادی کا فعل نہیں سمجھا جا سکتا لیکن غور سے دیکھا جائے تو جو اصلاح مغربی مصلحین نے کی ہے وہ کسی صورت میں بھی اس نام نہا د اصلاح سے بڑھ کر نہیں۔بیشک انہوں نے لاکھوں غلاموں کو آزاد کیا اور یکلخت حکماً آزاد کیا، مگر وہ غلامی کی روح کو نہیں مار سکے بلکہ اس آزادی کے بعد بھی آزاد کرنے والوں اور آئندہ آزاد ہونے والوں کے دل و دماغ میں غلام بنانے اور غلام بننے کی روح اسی طرح زندہ رہی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقیقی طور پر غلامی بھی نہ مٹی اور آقاؤں اور غلاموں کے تعلقات بھی سخت کشیدہ ہو گئے۔امریکہ کی ہی مثال لے لو۔بیشک ریاستہائے متحدہ میں بظاہر لاکھوں حبشی غلاموں نے یکلخت آزادی حاصل کر لی مگر قطع نظر اس کے کہ اس عالمگیر آزادی کی وجہ سے ملک ایک خطر ناک خانہ جنگی کی آگ سے شعلہ بار ہو گیا تھا۔کیا اس وقت امریکہ کا حبشی غلام واقعی آزاد ہو گیا تھا؟ بلکہ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا اس وقت تک بھی ملک کا کوئی قانون امریکہ کے حبشی غلام کو حقیقی آزادی دلا سکا ہے؟ کیا امریکہ کا گورا آدمی اپنے آزاد کردہ حبشی غلام کو آج تک دنیا کے بدترین غلاموں سے عملاً بدتر نہیں سمجھتا ؟ پھر کیا یہ آزاد شدہ حبشی اپنے آپ کو حقیقی طور پر امریکہ میں آزاد سمجھتا ہے؟ یقیناً امریکہ میں آزاد کرنے والے گورے لوگوں اور آزاد ہونے والے کالے حبشیوں کے تعلقات بین الاقوام تعلقات کی بدترین مثال ہیں جو اس وقت دنیا میں پائی جاتی ہے اور یہ حالت اس بات کا نتیجہ ہے کہ ان غلاموں کے آزاد کرنے میں وہ طریق اختیار کیا گیا ہے جس سے غلام لوگ نام کو تو بیشک آزاد ہو گئے مگر ان کو حقیقی آزادی نہیں مل سکی اور آزاد کرنے والوں اور آزاد ہونے والوں کی ذہنیتوں میں کوئی اصلاح نہیں ہوئی۔اس کے مقابلہ میں اسلامی طریق پر جولوگ آزاد کئے گئے وہ گو تدریجی طور پر آزاد ہوئے مگر آزاد ہونے کے بعد وہ حقیقتا آزاد تھے۔یعنی ان کے جسم بھی آزاد تھے ، ان کی روحیں بھی آزاد تھیں ، ان کے خیالات بھی آزاد تھے، ان کی ذہنتیں بھی آزاد تھیں اور ان آزاد شدہ غلاموں اور ان کے آزاد کرنے والے لوگوں کے درمیان وہ