سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 454
۴۵۴ عدیم المثال نظام تھا جس کی نظیر نہ تو اس سے پہلے کسی زمانہ میں نظر آتی ہے اور نہ اس کے بعد آج تک ایسا نمونہ کسی قوم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔اگر اس جگہ کسی کو یہ شبہ پیدا ہو ہ گزشتہ صدی کے دوران بہت سے یورپین اور امریکن مصلح ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو غلاموں کی آزادی کی تحریک میں گویا وقف کر دیا تھا اور ان کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں غلامی کا سلسلہ یکلخت منسوخ ہو گیا تھا۔مثلاً ابراہام لنکن نے جو اپنے وقت میں امریکہ کی جمہوری سلطنت کا صدر تھا۔امریکہ کے لاکھوں حبشی غلاموں کو یکلخت آزادی دلا دی اور اس فوری اور عالمگیر آزادی کا کوئی برا نتیجہ نہیں نکلا بلکہ ابراہام لنکن کی یہ خدمت انتہائی تحسین کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو آج سے چودہ سوسال قبل کے زمانہ اور آج کے زمانہ کے حالات میں زمین و آسمان کا اختلاف ہے اور چونکہ اسلام کی یہ تعلیم جو اس زمانہ کے غلاموں کی تدریجی آزادی کے متعلق دی گئی تھی اس زمانہ کے حالات کے ماتحت تھی اور مستقل تعلیم اسلام کی اس بارے میں اور تھی جن کا ذکر آگے آتا ہے اس لئے عقلاً یہ مقابلہ کسی صورت درست نہیں سمجھا جاسکتا۔پس اگر موجودہ زمانہ کے حالات میں فوری اور عالمگیر آزادی مضر ثابت نہیں ہوئی تو اس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آج سے پہلے زمانوں اور آج کی نسبت دوسری قسم کے حالات میں بھی یہ طریق ضرر رساں ثابت نہ ہوتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلاموں کی اخلاقی اور معاشرتی حالت نہایت درجہ پست تھی اور دوسری طرف دنیا کا تہذیب و تمدن بھی اس تہذیب و تمدن سے بالکل جدا تھا جو آج کل دنیا میں پایا جاتا ہے۔پس اس زمانہ کے حالات کے ماتحت یہی مناسب تھا کہ بجائے فوری اور عالمگیر آزادی کے تدریجی آزادی کے طریق کو اختیار کیا جاتا اور نہ نتیجہ بجائے مفید ہونے کے یقیناً مضر ہونا تھا۔یہ ایک اصولی جواب ہے جو اس اعتراض کا دیا جا سکتا ہے۔مگر حق یہ ہے کہ جو تجاویز اسلام نے اختیار کیں وہ بہر حال زیادہ مفید اور نفع مند تھیں اور ہر غیر متعصب شخص جو ٹھنڈے طور پر اس مسئلہ کے متعلق غور کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔حضرت مسیح ناصری کا ایک نہایت سچا مقولہ ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان دونوں قسم کے طریقوں میں سے کس طریق کے نتائج زیادہ مفید اور زیادہ نفع مند ثابت ہوئے ہیں۔آیا اس طریق کے جو اسلام نے آج سے چودہ سوسال قبل اختیار کیا تھا یا اس طریق کے جو موجودہ زمانہ میں بعض یورپین اور امریکن مصلحین نے اختیار کیا ہے؟ اس جگہ ہم کسی تفصیلی بحث میں داخل نہیں ہو سکتے ، صرف موٹے طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان ہر دو