سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 442 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 442

۴۴۲ نے حسب عادت ان کے حالات کے اختلاف کوملحوظ رکھتے ہوئے دو دو تین تین مقابلہ کی صورتیں تجویز کر کے ان میں مسلمانوں کو اختیار دے دیا ہے کہ جو صورت آسانی کے ساتھ اور بہتر طور پر اختیار کی جاسکے اسے اختیار کر لیا جاوے اور کمال حکمت کے ساتھ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے جہاں جہاں بھی غلام کے آزاد کرنے کا ذکر ہے وہاں لازماً ساتھ ہی یہ الفاظ بھی زیادہ کر دیے ہیں کہ اگر کوئی غلام نہ پائے تو پھر یہ یہ صورت اختیار کی جاوے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا اصل منشاء یہ تھا کہ بالآخر غلامی کا سلسلہ بالکل مفقود ہو جانا چاہئے۔اس کے مقابلہ میں جب سورۃ مجادلہ کی آیت میں دو ماہ کے روزوں کے مقابلہ کی صورت تجویز کی گئی ہے تو وہاں یہ الفاظ رکھے گئے ہیں کہ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پھر یوں کیا جاوے۔پس غلام کے آزاد کئے جانے کی صورت کے مقابلہ میں لازماً ان الفاظ کا آنا کہ اگر کوئی غلام نہ پاوے اس بات میں کوئی شبہ نہیں چھوڑتا کہ اسلام کی انتہائی غرض موجود الوقت غلاموں کی کلی آزادی تھی۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ اَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِتَاقِ فِي كُسُوفِ الشَّمس یعنی ” اسماء بنت ابی بکر روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو حکم دیتے تھے کہ سورج گرہن کے موقع پر غلام آزاد کیا کریں۔“ اب ہم جبری آزادی کے طریق کو لیتے ہیں۔سو اس کے متعلق اسلام نے مختلف صورتیں تجویز کی ہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرَنِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي سَابِعُ اِخْوَةٍ لِى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَالَنَا خَادِمٌ غَيْرَ وَاحَدٍ فَعَمَدَ اَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَآمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَعْتِقَهُ یعنی سوید صحابی روایت کرتے ہیں کہ ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک غلام تھا۔ہم میں سے ایک کو کسی بات پر غصہ آیا تو اس نے اس غلام کو ایک طمانچہ رسید کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و علم ہوا تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس غلام کو آزاد کر دیں۔“ بخاری کتاب العتق : مسلم کتاب الایمان