سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 441 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 441

فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ۴۴۱ اگر مقتول ایسی قوم میں سے ہے جو مسلمانوں کی دشمن اور ان سے برسر پیکار ہے لیکن مقتول خودمومن ہو تو پھر قاتل کی صرف یہ سزا ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے۔۔۔۔اور اگر وہ کوئی غلام نہ پاوے تو دوماہ کے لگاتا ر روزے رکھے “ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ - : اور اگر مقتول کسی ایسی قوم میں سے ہو جن کے اور تمہارے درمیان عہد و پیمان ہے تو خواہ مقتول کا فر ہی ہو۔اس کے قاتل کی سزا یہ ہے کہ وہ مقتول کے وارثوں کو خون بہا ادا کرے اور 66 ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو دوماہ کے لگا تار روزے رکھے۔“ پھر فرماتا ہے: فَكَفَّارَتُه إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيْكُمْ أوْ كِسْوَتُهُمْ أَو تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَثَةِ أَيَّامٍ یعنی اگر کوئی شخص خدا کی قسم کھا کر پھر اسے توڑے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو لباس عطا کرے یا ایک غلام آزاد کرے اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھے۔“ پھر فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يُظْهِرُونَ مِنْ نِسَآبِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاشَا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ۔۔۔فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا یعنی جو لوگ اپنی بیویوں سے علیحدہ رہنے کا عہد کر لیتے ہیں لیکن پھر کسی وجہ سے انہی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے تو ان کا کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزادکر یں۔اور اگر کوئی غلام نہ پائے تو ایسا شخص دو مہینے کے لگا تار روزے رکھے۔۔۔۔اور اگر روزوں کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ یہ وہ مختلف صورتیں ہیں جو اسلام نے کفارہ میں غلاموں کے آزاد کئے جانے کی بیان کی ہیں اور اسلام ۲۰ : سورة النساء : ۹۳ ے : سورۃ مائده : ۹۰ : سورة مجادله : ۵،۴