سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 440
۴۴۰ خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا۔یا رسول اللہ ! مجھے آپ کوئی ایسا عمل بتا ئیں کہ بس میں اس سے سیدھا جنت میں چلا جاؤں۔آپ نے فرمایا تم نے لفظ تو مختصر کہے ہیں ،مگر بات بہت بڑی پوچھی ہے۔تم ایسا کرو کہ غلام کو آزاد کرو اور اگر خودا کیلئے آزاد نہ کر سکو تو دوسروں کے ساتھ مل کر آزاد کرو۔“ پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِندَهُ وَلِيُدَةٌ فَعَلَمَهَا فَاحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا وَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَادِيْبَهَا ثُمَّ اعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَان یعنی ابو بردہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ بہت اچھی طرح اسے تعلیم دے اور بہت اچھی طرح اس کی تربیت کرے اور پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ خود شادی کرے تو ایسا شخص خدا کے حضور دوہرے ثواب کا مستحق ہوگا۔“ ان پُر زور سفارشات کے علاوہ اسلامی تعلیم میں بعض غلطیوں اور گناہوں کے کفارہ میں غلام کے آزاد کرنے کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے۔جسے گویا سفارشی اور جبری طریق کے بین بین سمجھنا چاہئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنَّا خَطَا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِةٍ إِلَا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ : یعنی " کوئی شخص کسی مومن کو یونہی غلطی سے قتل کر دے تو اس کی سزا یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا بھی ادا کرے سوائے اس کے کہ اس کے ورثا اسے یہ خون بہا خود بخود معاف کر دیں۔۔۔اور اگر ایسے شخص کو کوئی غلام آزاد کرنے کے لئے نہ ملے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔“ پھر فرماتا ہے: فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُ وَلَكُمْ وَهُوَ مُؤْ مِنْ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَّمْ يَجِدُ ل بخاری کتاب النکاح : سورة النساء : ۹۳