سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 439
۴۳۹ گئی۔پہلے ہم سفارشی طریق کو لیتے ہیں۔سب سے پہلے جبکہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کی ابتدا ہی تھی اور آپ مکہ میں مقیم تھے آپ پر یہ خدا کی وحی نازل ہوئی : وَمَا ادريكَ مَا الْعَقَبَةُ ، فَكَ رَقَبَةٍ یعنی ”اے رسول! کیا تم جانتے ہو کہ دین کے راستے میں ایک بڑی گھائی والی چڑھائی کون سی ہے جس پر چڑھ کر انسان قرب الہی کی بلندیوں پر پہنچ جاتا ہے؟ اگر تم نہیں جانتے تو ہم بتاتے ہیں کہ وہ غلام کا آزاد کرنا ہے۔“ پھر فرمایا: وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ۔۔۔۔۔وَإِلَى الْمَالَ عَلى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ : یعنی اللہ کے نزدیک بہت بڑی نیکی یہ ہے کہ انسان خدا پر ایمان لائے۔۔۔اور اس کی محبت میں مال خرچ کرے رشتہ داروں پر قیموں پر اور مسکینوں پر اور مسافروں پر اور غلاموں کے آزاد کرنے پر۔اور حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اِعْتَقَ رَقَبَةٌ مُسْلِمَةٌ اِعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوِمِنْهُ عُضُوا مِنَ النَّارِ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جو کوئی مسلمان غلام آزاد کرے گا۔اللہ تعالیٰ اسے دوزخ سے کلی نجات عطا کر دے گا۔“ پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ اَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَلِمُنِي عَمَلاً يَدْخُلُنِى الْجَنَّةَ قَالَ لَانُ كُنْتَ اقْتَصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْاَعْرَضْتَ الْمَسْئَلَةَ اعْتِقِ النِّسْمَةَ وَفَتِ الرَّقَبَةَ یعنی ” براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی : سورة بلد : ۱۴۱۳ : سورة بقره : ۱۷۸ بخاری کتاب الايمان والنذور بیہقی شعب الایمان بحوالہ مشکواة كتاب العتق