سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 438
۴۳۸ پھر حدیث میں آتا ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَارَسُولَ اللَّهِ سَيِّدِى زَوَّجَنِي أَمَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا قَالَ فَصَعِدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ مَابَالُ اَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ آمَتَهُ ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا الطَّلَاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک غلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میرے آقا نے اپنی لونڈی کے ساتھ میری شادی کر دی تھی مگر اب وہ چاہتا ہے کہ ہمارے نکاح کو فسخ کر کے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کردے۔آپ یہ بات سن کر غصہ کی حالت میں منبر پر چڑھ گئے اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا۔اے مسلمانو! یہ کیا بات ہے کہ تم لوگ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کی شادی کرتے ہو اور پھر خود بخودا پنی مرضی سے ان میں علیحد گی کرانا چاہتے ہو؟ سن لو کہ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔طلاق دینے کا حق صرف خاوند کو ہے اور تم اپنے غلاموں کو طلاق پر مجبور نہیں کر سکتے۔“ پھر حدیث میں آتا ہے: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَذْهَبُ إِلَى الْحَوَالِى كُلَّ يَوْمٍ سَبْتٍ فَإِذَا وَجَدَ عَبْداً فِي عَمَلٍ لا يُطِيقُهُ وَضَعَ عَنْهُ مِنْهُ یعنی امام مالک روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا یہ قاعدہ تھا کہ ہر ہفتہ مدینہ کے مضافات میں جایا کرتے تھے اور جب انہیں کوئی ایسا غلام نظر آتا تھا جسے اس کی طاقت اور مناسبت کے لحاظ سے زیادہ کام دیا گیا ہو تو حکماً اس کے کام میں تخفیف کر دیتے تھے۔“ موجود الوقت غلاموں کی آزادی کے اب ہم اس سوال کے دوسرے حصہ کو لیتے ہیں جو حاضر الوقت غلاموں کی آزادی کے ساتھ تعلق متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم رکھتا ہے اور جو اسلام اور بانی اسلام کا اصل نصب العین تھا۔سو جاننا چاہئے کہ اس کے متعلق اسلام میں دوطریق اختیار کئے گئے اول سفارشی طریق اور دوسرے جبری طریق۔اور ان دونوں طریقوں کے متحدہ اثر کے ماتحت آزادی کی تحریک کو تقویت پہنچائی ابن ماجہ کتاب الطلاق موطا امام مالک باب الامر بالرفق للمملوك