سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 435 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 435

۴۳۵ وَاعْطَيْتَهُ بُرْدَتَكَ فَكَانَتْ عَلَيْكَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ قَالَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ ثُمَّ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي بَصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ وَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبِسُونَ فَكَانَ إِنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا اَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَّاخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ یعنی ” عبادہ بن ولید روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوالیسر کو ملے۔اس وقت ان کے ساتھ ان کا ایک غلام بھی تھا اور ہم نے دیکھا کہ ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے بدن پر تھی اور اسی طرح ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے غلام کے بدن پر تھی۔میں نے انہیں کہا چچا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اپنے غلام کی دھاری دار چادر خود لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے یا اس کی یمنی چادر خود لے لیتے اور اپنی دھاری دار چادر اسے دے دیتے تا کہ تم دونوں کے بدن پر ایک ایک طرح کا جوڑا تو ہو جاتا۔ابوالیسر نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعا کی اور کہا بھتیجے! میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے اس دل نے اسے اپنے اندر جگہ دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اپنے غلاموں کو وہی کھانا کھلا ؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔پس میں اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اموال میں سے اپنے غلام کو برابر کا حصہ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن میرے ثواب میں کوئی کمی آوے۔“ یہ حدیث اپنے الفاظ کے زور دار ہونے میں گزشتہ حدیث سے بھی زیادہ واضح ہے اور اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت پر صحابہ عمل بھی کرتے تھے۔بلکہ اس کی تعمیل میں انہیں اس درجہ انہاک تھا کہ وہ اس بات کو بھی پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے غلاموں کے لباس میں درجہ کا اختلاف تو الگ رہا ظاہری صورت کا بھی خفیف سا اختلاف پیدا ہو۔۔پھر روایت آتی ہے: عَنْ أَبِي النَّوَارِ بَيَّاعِ الْكَرَابِيسِ قَالَ أَتَانِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ : مسلم كتاب الزهد ملخصا