سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 30
-۳ میزان الاعتدال فی نقد الرجال (تین جلد ) مصنفہ حافظ شمس الدین ابوعبد الله حمد بن احمد الذھبی۔المتوفی ۷۴۸ھ۔تہذیب التہذیب (بارہ جلد ) مصنفہ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن محمد بن علی بن حجر العسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ۔-۵- استیعاب فی معرفۃ الاصحاب (۲) جلد ) مصنفہ حافظ ابو عمرو یوسف بن عبداللہ بن محمد بن -4 عبدالبر القرطبی المتوفی ۴۶۳ ھ۔اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ (۵) جلد ) مصنفہ حافظ عزالدین ابوالحسن علی بن محمد بن عبدالکریم المعروف ابن اثیر الجزری المتوفی ۶۳۰ ھ۔اصابہ فی معرفۃ الصحابہ (۱۰ جلد ) مصنفہ حافظ ابن حجر عسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اوپر کی فہرست میں مؤخر الذکر تین کتابیں دراصل فن اسماء الرجال سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ محض صحابہ کے حالات میں ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں علوم آپس میں بڑی حد تک ملتے ہیں اس لئے ہم نے ان کتب کو اس فہرست میں شامل کر لیا ہے۔اقسام کے لحاظ سے روایات کا علم تین قسموں میں منقسم ہے۔اعنی (۱) حدیث کتب حدیث (۲) تفسیر اور (۳) سیرۃ و تاریخ۔مؤخر الذکر علم کے ایک حصہ کو مغازی بھی کہتے ہیں۔حدیث روایات کے ایسے مجموعے کا نام ہے جس کی اصل غرض و غایت دینی مسائل کا ضبط ہے خواہ ضمنی طور پر اس میں تفسیری اور تاریخی حصہ بھی آجاوے۔حدیث میں عموماً وہ روایات درج ہوتی ہیں جن کی سند بالآ خر کسی نہ کسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔یعنی آخری راوی یہ بیان کرتا ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا۔یا یوں کرتے دیکھا۔یا میرے سامنے آپ کے سامنے کسی نے یوں کیا اور آپ نے اُسے نہیں روکا۔مگر کتب حدیث میں کچھ حصہ ایسی روایات کا بھی آجاتا ہے جو صرف صحابہ کے اقوال و اعمال تک محدود ہوتا ہے جنہیں اصطلاحی طور پر آثار کہتے ہیں۔حدیث کی کتابیں بے شمار ہیں جو زیادہ تر دوسری اور تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی ہیں ، مگر یہ سب ایک درجہ کی نہیں ہیں۔کیونکہ سب محدثین نے ایک ساسخت معیار نہیں رکھا اور نہ ایک سی احتیاط برتی ہے۔حدیث کی زیادہ معروف کتابیں مع ان کے مختصر حالات و کوائف کے درج ذیل کی جاتی ہیں: