سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 434 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 434

۴۳۴ پھر حدیث میں آتا ہے: رهم عَنْ أَبِي ذَرِّقَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوُهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمُهُ مِمَّا يَاكُلُ وَلْيُلْبِسُهُ مِمَّا يَلْبِسُ وَلاَ تُكَلِّفُو مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَاعِيُنُوهُمْ۔یعنی ابوذر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ ” تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔پس جب کسی شخص کے ماتحت کوئی غلام ہو تو اسے چاہئے کہ اسے وہی کھانا دے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی لباس دے جو وہ خود پہنتا ہے اور تم اپنے غلاموں کو ایسا کام نہ دیا کرو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور اگر کبھی ایسا کام دو تو پھر اس کام میں خودان کی مدد کیا کرو۔“ اور مدد کرنے کے الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ وہ کام ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اگر وہ آقا کو خود کرنا پڑے تو وہ اسے اپنے لئے موجب عار سمجھے بلکہ ایسا ہونا چاہئے کہ جسے آقا خود بھی کر سکتا ہو اور کرنے کو تیار ہو۔یہ حدیث اپنے مطالب میں نہایت واضح ہے اور اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم میں نہ صرف یہ کہ غلاموں کے ساتھ کامل درجہ کے حسن سلوک اور انتہائی شفقت کا حکم دیا گیا ہے جس کی نظیر یقینا کسی اور مذہب اور کسی اور قوم میں نہیں ملتی بلکہ یہ کہ در حقیقت اس تعلیم کا اصلی منشا تھا کہ مسلمان اپنے غلاموں کو بالکل اپنے بھائیوں کی طرح سمجھیں اور ہر امر میں جس طرح خود رہتے ہیں اسی طرح انہیں رکھیں تا کہ ان کے تمدن و معاشرت میں اسی طرح کی بلندی پیدا ہو جائے جیسی کہ دوسرے آزا دلوگوں میں ہے اور ان کے دلوں سے پستی کے احساسات بالکل مٹ جائیں اور نہ محض حسن سلوک کی غرض سے اس قدر انتہائی تعلیم نہیں دی جاسکتی تھی کہ غلاموں کو بعینہ اسی طرح رکھو جس طرح کہ خود رہتے ہو کیونکہ حفظ مراتب تو ہوا ہی کرتا ہے اور اسلام اسے تسلیم کرتا ہے۔پھر حدیث میں آتا ہے: عَنْ عَبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَادَةَ الصَّامِتِ قَالَ لَقِيْنَا اَبَا الْيُسْرِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ وَعَلَيْهِ بُرُدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرُدَةٌ وَمَعَافِرِيٌّ قَالَ قُلْتُ لَهُ يَاعَمِّ لَوْ أَنَّكَ أَخَذْتَ بُرُدَةَ غُلَامِكَ وَاعْطَيْتَهُ مَعَافِرَيْكَ وَاَخَذْتَ مَعَافِرَيْهِ بخاری کتاب العتق