سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 432
۴۳۲ کی حالت کو بہتر ہی نہیں بنایا بلکہ آپ نے آئندہ کے لئے غلامی کے ناجائز اور ظالمانہ طریقوں کو منسوخ بھی کر دیا۔گویا مسئلہ غلامی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم میں اصلاح کا کام دو حلقوں میں تقسیم شدہ تھا۔اول حاضر الوقت غلاموں کی حالت کی اصلاح اور ان کی آزادی کا انتظام۔دوم آئندہ کے لئے اصولی احکامات اور ہم اس جگہ ان دونوں قسم کے کاموں کے متعلق آپ کی تعلیم اور آپ کے طریق عمل کا نمونه مختصر طور پر ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔موجود الوقت غلاموں کی اصلاح کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم طبعی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلے ہم اس بحث کو لیتے ہیں جو حاضر الوقت غلاموں سے تعلق رکھتی ہے۔سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَ بِذِي الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ۔۔۔۔۔وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) ”اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی اور احسان کا سلوک کرو اور اپنے دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ اور قیموں اور مسکینوں کے ساتھ۔اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ اور جانو کہ اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ان لوگوں کو جو تکبر اور بڑائی کا طریق اختیار کرتے ہیں۔“ اس آیت میں غلاموں کے ساتھ نیکی اور احسان کا حکم دیا گیا ہے۔پھر فرماتا ہے: وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكْتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَامَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَتُكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنْ خَيْرٌ مِنْ مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ ”اوراے مسلمانو! نہ شادی کرو تم مشرک عورتوں کے ساتھ حتی کہ وہ ایمان لے آئیں اور جانو کہ ایک مسلمان لونڈی بہتر ہے ایک آزاد مشرک عورت سے خواہ تمہیں مشرک عورت اچھی ہی نظر آئے۔اور اے مسلمانو ! نہ نکاح کرو مسلمان عورتوں کا تم مشرک مردوں کے ساتھ حتی کہ وہ ایمان لے آئیں اور جانو کہ ایک مسلمان غلام بہتر ہے ایک آزاد مشرک آدمی سے خواہ : سورۃ النساء : ۳۷ : سورة البقره : ۲۲۲ b