سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 29
۲۹ -1 اس علم میں بھی متعد دکتا ہیں لکھی گئی ہیں جن میں اس وقت زیادہ معروف و متداول یہ ہیں : نُزهة النظر في توضيح نخبة الفكر مصنفہ ابوالفضل احمد ابن حجر عسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ۔اليواقيت والدرر مصنفه شیخ عبدالرؤف المنادی المتوفی ۱۰۳۱ھ۔اسماء الرجال فن اسماء الرجال اس علم کا نام ہے جس میں حدیث و سیرت وغیرہ کے راویوں کے حالات زندگی کو تنقیدی نظر کے نیچے لا کر ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے تا کہ جب بھی کوئی روایت سامنے آوے تو اس کے سلسلہ رواۃ کا امتحان کیا جاسکے۔اس سے ظاہر ہے کہ یہ علم بہت وسیع اور پھیلا ہوا ہے حتی کہ بقول سرولیم میور اس علم کے ذریعہ چالیس ہزار راویوں کے حالات زندگی ضبط میں آگئے ہیں۔جو یقیناً دنیا کی تاریخ میں ایک بے نظیر ریکارڈ ہے۔یہ مجموعہ سرسری حالات کا ذخیرہ نہیں ہے بلکہ صحیح تنقیدی اصول کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔جس میں ہر راوی کی تاریخ ولادت ، تاریخ وفات، جائے رہائش، حالات زندگی، عادات و اطوار، علمی قابلیت ، ذہن ، حافظہ اور سمجھ ، دیانت وامانت، طریق روایت کی خصوصیات ، استادوں کے نام، شاگردوں کے نام ، ہمعصروں کے نام وغیرہ وغیرہ پوری صحت اور تعیین کے ساتھ درج کئے گئے ہیں۔۔سب سے پہلا شخص جس نے اس علم کی طرف با قاعدہ فن کے رنگ میں توجہ کی وہ شعبہ بن الحجاج المتوفی ۱۶۰ ھ تھے۔ان کے بعد امام یحیی بن سعید القطان المتوفی ۱۹۸ ھ نے اس علم کو اور ترقی دی اور سب سے پہلا مجموعہ تیار کیا۔بعدہ علامہ احمد بن عبداللہ امجلی المتوفی ۲۶۱ ھ نے اور امام عبدالرحمن بن ابی حاتم الرازی المتوفی ۳۲۷ ھ نے اس فن میں مفید کتابیں لکھیں اور ہر دو نے اپنی تصانیف کا نام کتاب الجرح و التعدیل رکھا۔مگر اس فن میں متقدمین کی کتب میں سب سے زیادہ جامع اور مستند کتاب الــــــامــل فـي معرفة الضعفاء و المتروكين مصنفہ ابواحمد عبدالله بن محمد ابن عدی المتوفی ۳۶۵ تھی۔ان کے علاوہ حافظ عقیلی اور امام دارقطنی وغیرہ نے بھی اس فن میں کتابیں لکھی ہیں مگر افسوس ہے کہ ان میں سے اکثر کتب اب نا پید ہو چکی ہیں گو بعد کی کتب میں ان سب کے کثرت کے ساتھ حوالے آتے ہیں۔بعد کی کتب میں سے جو ابتدائی کتب پر مبنی ہیں مندرجہ ذیل کتابیں زیادہ معروف و متداول ہیں : -1 -۲ الکمال فی معرفۃ الرجال مصنفہ حافظہ عبد الغني بن عبد الواحد المقدسی المتوفی ۶۰۰ ھ۔تہذیب الکمال فی معرفۃ الرجال مصنفہ حافظہ جمال الدین یوسف بن زکی المڑی المتوفی ۲۲- لی: دیباچہ لائف آف محمد صفحه ۳۸ : کشف الظنون جلد اصفحه ۳۹۱ ۷۲۲ھ۔