سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 408 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 408

۴۰۸ 166 کو اپنے سامنے اپنے رشتہ دار نظر آنے لگے ہیں۔اور پھر اس نے عمر وحضرمی کے بھائی عامر حضر می کو بلا کر کہا ” تم نے سنا تمہارا حلیف عتبہ کیا کہتا ہے اور وہ بھی اس وقت جبکہ تمہارے بھائی کا بدلہ گو یا ہاتھ میں آیا ہوا ہے۔عامر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور اس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ کر اور ننگا ہو کر چلانا شروع کیا ” واعمراہ واعمراہ ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے۔ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے !! اس صحرائی آواز نے لشکر قریش کے سینوں میں عداوت کے شعلے بلند کر دیئے اور جنگ کی بھٹی اپنے پورے زور سے دہکنے لگ گئی۔1 ابوجہل کے طعنے نے عتبہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔اس غصہ میں بھرا ہوا وہ اپنے بھائی شیبہ اور اپنے لڑکے ولید کو ساتھ لے کر لشکر کفار سے آگے بڑھا اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق انفرادی لڑائی کے لئے مبارزطلبی کی۔چند انصار ان کے مقابلہ کے لئے آگے بڑھنے لگے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اور فرمایا۔حمزہ تم اٹھو علی تم اٹھو ، عبیدہ تم اٹھو! یہ تینوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دار تھے اور آپ چاہتے تھے کہ خطرہ کی جگہ پر سب سے پہلے آپ کے عزیز واقارب آگے بڑھیں۔دوسری طرف عقبہ وغیرہ نے بھی انصار کو دیکھ کر آواز دی کہ ان لوگوں کو ہم کیا جانتے ہیں۔ہماری ٹکر کے ہمارے سامنے آئیں۔چنانچہ حمزہ اور علی اور عبیدہ آگے بڑھے۔عرب کے دستور کے مطابق پہلے روشناسی ہوئی۔پھر عبیدۃ بن مطلب ولید کے مقابل ہو گئے اور حمزہ عتبہ کے اور علی شیبہ کے تے حمزہ اور علی نے تو ایک دوواروں میں ہی اپنے حریفوں کو خاک میں ملا دیا، لیکن عبیدۃ اور ولید میں دو چار ا چھی ضر ہیں ہوئیں۔اور بالآخر دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ سے کاری زخم کھا کر گرے۔جس پر حمزہ اور علی نے جلدی سے آگے بڑھ کر ولید کا تو خاتمہ کر دیا اور عبیدہ کو اٹھا کر اپنے کیمپ میں لے آئے۔مگر عبیدہ اس صدمہ سے جانبر نہ ہو سکے اور بدر سے واپسی پر راستہ میں انتقال کیا۔ان انفرادی مقابلوں کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے سائبان میں تشریف لے گئے اور جاتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ جب تک میں حکم نہ دوں عام دھاوا نہ کیا جائے اور فرمایا کہ اگر کفار فوری حملہ کر کے آئیں تو پہلے تیروں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرو لیکن دیکھو تیر ذرا احتیاط سے چلانا۔ایسانہ ہو کہ یونہی بے فائدہ طور پر اپنے ترکش خالی کردو اور تلوار صرف اس وقت نکالو کہ جب دونوں لشکر آپس میں مل جائیں۔غالباً اسی موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر یہ بھی فرمایا کہ لشکر کفار میں ل ابن ہشام ابوداؤد