سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 407
۴۰۷ بے پروائی نظر آئی کہ وہ سخت مرعوب ہو کر لوٹا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا مَا رَأَيْتُ شَيْئًا وَلَكِنِّي قَدْ رَأَيْتُ يَا مَعْشَرَ الْقُرَيْشِ اَلبَلَايَا تَحْمِلُ الْمَنَايَا نَوَاضِحُ يَثْرَبَ تَحْمِلُ الْمَوْتَ النَّاقِعَ - یعنی ”مجھے کوئی مخفی کمک وغیرہ تو نظر نہیں آئی لیکن اے معشر قریش! میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گو یا اونٹنیوں کے کجاووں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کو اٹھایا ہوا ہے اور میٹر ب کی سانڈ نیوں پر گویا ہلاکتیں سوار ہیں۔قریش نے جب یہ بات سنی تو ان میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی۔سراقہ جو ان کا ضامن بن کر آیا تھا کچھ ایسا مرعوب ہوا کہ الٹے پاؤں بھاگ گیا۔اور جب لوگوں نے اسے روکا تو کہنے لگا اني ارى مَا لَا تَرَوْون : " مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تم نہیں دیکھتے۔حکیم بن حزام نے عمیر کی رائے سنی تو گھبرایا ہوا عتبہ بن ربیعہ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔اے عتبہ اتم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے آخر عمر و حضرمی کا بدلہ ہی چاہتے ہو۔۔وہ تمہارا حلیف تھا کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اس کی طرف سے خون بہا ادا کر دو اور قریش کو لے کر واپس لوٹ جاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے تمہاری نیک نامی رہے گی۔‘ عقبہ جو خود گھبرایا ہوا تھا اور کیا چاہئے تھا جھٹ بولا۔”ہاں ہاں میں راضی ہوں اور پھر حکیم! دیکھ تو یہ مسلمان اور ہم آخر آپس میں رشتہ دار ہی تو ہیں۔کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ بھائی بھائی پر تلوار اٹھائے اور باپ بیٹے پر تم ایسا کرو کہ ابھی ابوالحکم ( یعنی ابو جہل) کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے یہ تجویز پیش کرو۔اور ادھر عتبہ نے خود اونٹ پر سوار ہو کر اپنی طرف سے لوگوں کو سمجھانا شروع کر دیا کہ رشتہ داروں میں لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ہمیں واپس لوٹ جانا چاہئے اور محمد کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ دوسرے قبائل عرب کے ساتھ نپٹتا رہے جو نتیجہ ہو گا دیکھا جائے گا۔اور پھر تم دیکھو کہ ان مسلمانوں کے ساتھ لڑنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ خواہ تم مجھے بزدل کہو حالانکہ میں بزدل نہیں ہوں اِنّى أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ۔یعنی ” مجھے تو یہ لوگ موت کے خریدار نظر آتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دور سے عتبہ کو دیکھا تو فرمایا۔اگر لشکر کفار میں سے کسی میں شرافت ہے تو اس سرخ اونٹ کے سوار میں ضرور ہے۔اگر یہ لوگ اس کی بات مان لیں تو ان کے لئے اچھا ہو۔لیکن جب حکیم بن حزام ابو جہل کے پاس آیا اور اس سے یہ تجویز بیان کی تو وہ فرعون امت بھلا ایسی باتوں میں کب آنے والا تھا چھٹتے ہی بولا۔اچھا اچھا اب عتبہ : طبری وابن سعد وابن ہشام یہ ایک پردہ رکھنے کی بات تھی ورنہ دل میں رؤساء قریش خوب جانتے تھے کہ عمرو کے قتل کا تو صرف ایک بہانہ ہے ور نہ اصلی جلن اسلام کے نام کی ہے۔: سورۃ انفال : ۴۹ : ابن ہشام وطبری ۵ : طبری