سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 406 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 406

۴۰۶ غالباً اسی وقت کے قریب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حذیفہ بن یمان اور ابوجبل حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم ابھی ابھی مکہ سے آرہے ہیں۔جب ہم وہاں سے نکلے تھے تو قریش نے ہم کو روک دیا تھا اور پھر یہ عہد لے کر چھوڑا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ہو کر ان کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔گو یہ عہد قابل ایفا نہیں تھا کیونکہ جبر آلیا گیا تھا مگر آپ نے فرمایا۔تو پھر تم جاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ہم اللہ ہی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی کی نصرت پر ہمارا بھروسہ ہے۔1 ابھی آپ صفوں کی درستی میں ہی مصروف تھے کہ قریش کے لشکر میں حرکت پیدا ہوئی اور لشکر کفار میدان قتال کی طرف بڑھنا شروع ہوا۔یہ وہ موقع تھا جبکہ کفار کو مسلمان اصلی تعداد سے کم نظر آتے تھے۔اس لئے وہ جرات کے ساتھ بڑھتے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دور سے دیکھا تو فرمایا ”اے میرے مولا! یہ لوگ تکبر و غرور سے بھرے ہوئے تیرے دین کے مٹانے کے لئے آئے ہیں تو اپنے وعدہ کے مطابق اپنے دین کی نصرت فرما۔اسی اثنا میں قریش کے چند آدمی مسلمانوں کے چشمہ کی طرف بڑھے۔صحابہ نے روکنا چاہا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور حکم دیا کہ ان کو پانی پی لینے دیا جاوے۔چنانچہ انہوں نے امن کے ساتھ پانی پیا اور اپنے لشکر کو واپس لوٹ گئے ہے دشمن کے ساتھ اس عدل واحسان کا معاملہ کرنا عرب کے ضابطہ اخلاق میں مفقود تھا اور یہ اسلام کی ایک خصوصیت ہے کہ اس نے خود حفاظتی قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے دشمن سے بھی نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔اب فوجیں بالکل ایک دوسرے کے سامنے تھیں مگر قدرت الہی کا عجیب تماشہ ہے کہ اس وقت لشکروں کے کھڑے ہونے کی ترتیب ایسی تھی کہ اسلامی لشکر قریش کو اصلی تعداد سے زیادہ بلکہ دو گنا نظر آتا تھا۔جس کی وجہ سے کفار مرعوب ہوئے جاتے تھے اور دوسری طرف قریش کالشکر مسلمانوں کو ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے تھے۔قریش کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح اسلامی لشکر کی تعداد کا صحیح اندازہ پتہ لگ جاوے تا کہ وہ چھوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دے سکیں۔اس کے لئے رؤساء قریش نے عمیر بن وہب کو بھیجا کہ اسلامی لشکر کے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کر دیکھے کہ اس کی تعداد کتنی ہے اور آیا ان کے پیچھے کوئی کمک تو مخفی نہیں؟ چنانچہ عمیر نے گھوڑے پر سوار ہو کر مسلمانوں کا ایک چکر کاٹا مگر اسے مسلمانوں کی شکل وصورت سے ایسا جلال اور عزم اور موت سے ایسی مسلم کتاب الجہاد باب الوفاء بالعهد ۲ : سورۃ انفال : ۴۵ : طبری وابن ہشام ابن ہشام و طبری ۵ : سورة ال عمران : ۱۴ : سورۃ انفال : ۴۵