سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 402 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 402

۴۰۲ انصار یہ سمجھتے ہوں کہ بیعت عقبہ کے ماتحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگر عین مدینہ پر کوئی حملہ ہوتو اس کا دفاع کریں۔چنانچہ باوجود اس قسم کی جاں نثارا نہ تقریروں کے آپ یہی فرماتے گئے کہ اچھا پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔سعد بن معاذ رئیس اوس نے آپ کا منشاء سمجھا اور انصار کی طرف سے عرض کیا یا رسول اللہ ! شاید آپ ہماری رائے پوچھتے ہیں۔خدا کی قسم جب ہم آپ کو سچا سمجھ کر آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے تو پھر اب آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں تو ہم کو د جائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اور آپ انشاء اللہ ہم کو لڑائی میں صابر پائیں گے اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گی۔آپ نے یہ تقریرسنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔سِيرُوا وَابْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَنِي إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَاللَّهِ لَكَانِي انْظُرُ إِلى مَصَارِعَ الْقَوْمِ یعنی تو پھر اللہ کا نام لے کر آگے بڑھوا اور خوش ہو کیونکہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کفار کے ان دو گروہوں ( یعنی لشکر اور قافلہ ) میں سے کسی ایک گروہ پر وہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا۔اور خدا کی قسم میں گویا اس وقت وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو ہو کر گریں گے۔آپ کے یہ الفاظ سن کر صحابہ خوش ہوئے مگر ساتھ ہی انہوں نے حیران ہوکر عرض کیا ھلا ذَكَرُتَ لَنَا الْقِتَالَ فَنَسْتَعِدَ - یعنی "یا رسول اللہ! اگر آپ کو پہلے سے لشکر قریش کی اطلاع تھی تو آپ نے ہم سے مدینہ میں ہی جنگ کے احتمال کا ذکر کیوں نہ فرما دیا کہ ہم کچھ تیاری تو کر کے نکلتے۔“ مگر با وجود اس خبر اور اس مشورہ کے اور باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس خدائی بشارت کے کہ ان دوگروہوں میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کو ضرور فتح حاصل ہوگی ابھی تک مسلمانوں کو معین طور پر یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ ان کا مقابلہ کس گروہ سے ہوگا اور وہ ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک گروہ کے ساتھ مٹھ بھیٹر ہو جانے کا امکان سمجھتے تھے اور وہ طبعاً کمزور گروہ یعنی قافلہ کے مقابلہ کے زیادہ خواہش مند تھے۔اس مشورہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ بدر کی طرف بڑھنے شروع ہوئے اور جب آپ بدر کے قریب پہنچے تو کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر روایات میں نہیں ہے آپ حضرت ابوبکر صدیق کو اپنے پیچھے سوار کر کے اسلامی لشکر سے کچھ آگے نکل گئے۔اس وقت آپ کو ایک بوڑھا بدوی ملا جس سے آپ کو باتوں باتوں میں یہ معلوم ہوا کہ اس وقت قریش کا لشکر بدر کے بالکل پاس پہنچا ہوا ابن ہشام وابن سعد : ابن كثير وسيرة حلبيه