سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 385 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 385

۳۸۵ مقصد جیسا کہ ہم جہاد کی اصولی بحث میں ثابت کر چکے ہیں بالکل درست اور جائز تھا اور کوئی معقول اور غیر متعصب شخص اس پر اعتراض نہیں کر سکتا، لیکن تاریخی اور علمی نکتہ نگاہ سے یہ اختلاف ایک دلچسپ بحث کا رنگ اختیار کر گیا ہے اور کوئی علم دوست مورخ اس کی طرف سے بے تو جہی نہیں برت سکتا اور پھر صحت واقعات کی تحقیق کی ذمہ داری مزید برآں ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی پوری پوری بحث اور مکمل چھان بین کے لئے ایک طویل مقالہ کی ضرورت ہے جس کی گنجائش ایک خالص تاریخ کی کتاب میں نہیں نکالی جاسکتی اور حق یہ ہے کہ میں نے اس بحث میں ایک مفصل مضمون لکھا بھی تھا، لیکن پھر اسے اس خیال سے خارج کر دیا کہ اس قسم کا مضمون حقیقتا علم کلام میں داخل ہے اور عام تاریخ کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔سواب میں نہایت مختصر طور پر اس معاملہ میں اپنی تحقیق کا ذکر کر کے اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں۔میں نے ہر دو قسم کے خیالات کے متعلق کافی غور کیا ہے لیکن جہاں میں مولوی شیر علی صاحب اور مولانا شبلی کی تحقیق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں وہاں میں افسوس کے ساتھ بعض باتوں میں ان بزرگوں سے اختلاف بھی رکھتا ہوں اور میری رائے میں اصل حقیقت ان ہر دو قسم کے خیالات کے بین بین ہے۔یعنی میری تحقیق یہ ہے کہ ایک طرف تو جدید تحقیق کا یہ حصہ ٹھیک ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں ہی لشکر قریش کی آمد کی اطلاع ہو گئی تھی اور دوسری طرف عام مؤرخین کا یہ خیال بھی ہرگز غلط نہیں ہے کہ صحابہ ( یعنی اکثر صحابہ جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا ) صرف قافلہ ہی کی روک تھام کے خیال سے نکلے تھے اور لشکر قریش کا علم انہیں بدر کے قریب پہنچ کر ہوا تھا اور جہاں تک میں نے غور کیا ہے قرآن شریف اور تاریخ و حدیث دونوں میرے اس خیال کے مؤید ہیں۔دراصل ہمارے ان جدید محققین نے قرآن شریف کے سارے بیان کو اپنے مدنظر نہیں رکھا اور صرف اس کے ایک حصہ کو لے کر ( جو بظا ہر تاریخی بیان کے مخالف نظر آتا ہے حالانکہ دراصل وہ بھی تاریخی روایات کے مخالف نہیں ہے بلکہ تاریخ سے ایک زائد بات بتاتا ہے ) اس بحث میں ساری تاریخی روایات کو عملا ردی کی طرح پھینک دیا ہے۔حالانکہ خود قرآن شریف کے دوسرے حصے ان تاریخی روایات کی تصدیق کرتے ہیں اور سوائے ایک زائد بات کے جس کی طرف قرآن شریف اشارہ کرتا ہے باقی ساری باتوں میں قرآنی بیان اور تاریخی بیان ایک دوسرے کے مطابق ہیں اور ہرگز کوئی اختلاف نہیں۔تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے تاریخی بیان کا ماحصل جو مضبوط روایات سے ثابت ہے اور جس کی تائید میں صحیح احادیث بھی پائی جاتی ہیں یہ ہے کہ بدر کے موقع پر مسلمان صرف قافلہ کی روک تھام کے خیال سے مدینہ سے نکلے تھے اور لشکر قریش کا علم انہیں بدر کے پاس پہنچ کر ہوا تھا