سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 383
٣٨٣ اور یتامیٰ اور غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔عید الفطر بھی اسی سال شروع ہوئی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو جانے پر شوال کی پہلی تاریخ کو مسلمان عید منایا کریں۔یہ عید اس بات کی خوشی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان کی عبادت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔مگر کیا شان دلر بائی ہے کہ آپ نے اس خوشی کے اظہار کے لئے بھی ایک عبادت ہی مقرر فرمائی۔چنانچہ حکم دیا کہ عید کے دن تمام مسلمان کسی کھلی جگہ جمع ہو کر پہلے دو رکعت نماز ادا کیا کریں اور پھر اس نماز کے بعد بے شک جائز طور پر ظاہری خوشی بھی منائیں کیونکہ روح کی خوشی کے وقت جسم کا بھی حق ہے کہ وہ خوشی میں حصہ لے۔دراصل اسلام نے ان تمام بڑی بڑی عبادتوں کے اختتام پر جو اجتماعی طور پرادا کی جاتی ہیں عیدیں رکھی ہیں۔چنانچہ نمازوں کی عید جمعہ ہے جو گویا ہر ہفتہ کی نمازوں کے بعد آتا ہے اور جسے اسلام میں ساری عیدوں سے افضل قرار دیا گیا ہے پھر روزوں کی عید عید الفطر ہے جو رمضان کے بعد آتی ہے۔اور حج کی عید عیدالاضحیٰ ہے جو حج کے دوسرے دن منائی جاتی ہے اور یہ ساری عیدیں پھر خود اپنے اندر ایک عبادت ہیں۔الغرض اسلام کی عید میں اپنے اندر ایک عجیب شان رکھتی ہیں اور ان سے اسلام کی حقیقت پر بڑی روشنی پڑتی ہے اور یہ اندازہ کرنے کا موقع ملتا ہے کہ کس طرح اسلام مسلمانوں کے ہر کام کو ذکر الہی کے ساتھ پیوند کرنا چاہتا ہے۔مجھے تاریخ سے ہٹنا پڑتا ہے ، ورنہ میں بتاتا کہ کس طرح اسلام نے ایک مسلمان کی ہر حرکت و سکون اور ہر قول و فعل کو خدا کی یاد کا خمیر دیا ہے۔حتی کہ روزمرہ کے معمولی اٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے سونے جاگنے ، کھانے پینے ، نہانے دھونے ، کپڑے بدلنے، جوتا پہننے، گھر سے باہر جانے، گھر کے اندر آنے ،سفر پر جانے ،سفر سے واپس آنے ، کوئی چیز بیچنے، کوئی چیز خریدنے ، بلندی پر چڑھنے ، بلندی سے اتر نے مسجد میں داخل ہونے ، مسجد سے باہر آنے ، دوست سے ملنے، دشمن کے سامنے ہونے ، نیا چاند دیکھنے، بیوی کے پاس جانے غرض ہر کام کے شروع کرنے اور ختم کرنے حتی کہ چھینک اور اباسی تک لینے کو کسی نہ کسی طرح خدا کے ذکر کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔اس حالت میں اگر مشرکین عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو دراصل اس تعلیم کے لانے والے لیکن کفار کے خیال میں اس تعلیم کے بنانے والے تھے یہ کہتے ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خدا کا جنون ہو گیا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔واقعی ایک دنیا دار کو یہ باتیں جنون کے سوا اور کچھ نظر نہیں آسکتیں مگر جس نے اپنی ہستی کی حقیقت کو سمجھا ہے وہ جانتا ہے کہ زندگی اسی کا نام ہے۔ل : یہ امور کتب حدیث کے ذریعہ سے اسلامی شریعت میں شائع و متعارف ہیں کسی خاص حوالہ کی ضرورت نہیں۔