سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 365
۳۶۵ اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہو گا کہ اس زمانہ میں عرب میں لڑنے کا طریق یہ ہوتا تھا کہ جب فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہو جاتیں تھیں تو خاص خاص لوگ انفرادی مقابلوں کے لئے نکل کر مبارز طلبی کرتے تھے اور ان انفرادی مقابلوں کے بعد عام حملہ کیا جاتا تھا۔جنگ میں پیدل اور گھوڑے پر سوار ہو کر دونوں طرح لڑنے کا دستور تھا مگر گھوڑے پر سوار ہو کر لڑنا بہتر سمجھا جاتا تھا۔اونٹ عموماً صرف سفر کاٹنے یا اسباب اٹھانے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔آلات حرب حملہ کے لئے تلوار، نیزہ اور تیر کمان تک محدود تھے اور دفاع کے لئے ڈھال اور زرہ اور خود استعمال کئے جاتے تھے۔عرب کے بعض قبائل میں دشمن پر پتھر کی بارش برسانے کے لئے ایک قسم کی مشین بھی استعمال ہوتی تھی جسے منجنیق کہتے تھے۔اس مشین کا خیال غالبا امیر ان سے عرب میں آیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استعمال محاصرہ طائف کے موقع پر فرمایا تھا۔آغاز جہاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احتیاطی تدابیر یہ بتایا جا چکا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت میں پہلی قرآنی آیت بارہ صفر ۲ ہجری کو نازل ہوئی تھی۔یعنی دفاعی جنگ کے اعلان کا جو خدائی اشارہ ہجرت میں کیا گیا تھا اس کا با ضابطہ اعلان صفر۲ ہجری میں کیا گیا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیام مدینہ کی ابتدائی کارروائیوں سے فارغ ہو چکے تھے اور اس طرح جہاد کا آغاز ہو گیا۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ کفار کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء چار تدابیر اختیار کیں جو آپ کی اعلیٰ سیاسی قابلیت اور جنگی دور بینی کی ایک بین دلیل ہیں۔یہ تدابیر مندرجہ ذیل تھیں۔اوّل آپ نے خود سفر کر کے آس پاس کے قبائل کے ساتھ باہمی امن وامان کے معاہدے کرنے شروع کئے تاکہ مدینہ کے اردگرد کا علاقہ خطرہ سے محفوظ ہو جائے۔اس امر میں آپ نے خصوصیت کے ساتھ ان قبائل کو مدنظر رکھا جو قریش کے شامی رستے کے قرب و جوار میں آباد تھے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے یہی وہ قبائل تھے جن سے قریش مکہ مسلمانوں کے خلاف زیادہ مدد لے سکتے تھے اور جن کی دشمنی مسلمانوں کے واسطے سخت خطرات پیدا کر سکتی تھی۔دوم آپ نے چھوٹی چھوٹی خبر رساں پارٹیاں مدینہ کے مختلف جہات میں روانہ کرنی شروع فرمائیں تا کہ آپ کو قریش اور ان کے خلفاء کی حرکات و سکنات کا علم ہوتا رہے اور قریش کو بھی یہ خیال