سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 357 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 357

۳۵۷ کے لئے تیار ہوتے تھے وہ اپنا اپنا سامان جنگ اور سواری وغیرہ کا انتظام خود کرتے تھے۔البتہ کسی ذی ثروت صحابی کو مقدرت ہوتی تھی تو وہ دوسروں کی امداد بھی کر دیتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً اس قسم کی امداد کی تحریک فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات جب گنجائش ہوتی تھی تو خود بھی امداد فرماتے تھے۔چھوٹے بچے یعنی پندرہ سال سے کم عمر کے بچے عموماً جنگ میں ساتھ نہیں لئے جاتے تھے اور جو بچے اس شوق میں ساتھ ہو لیتے تھے انہیں جائزہ کے وقت جو عموماً شہر سے باہر نکل کر لیا جاتا تھا واپس کر دیا جاتا تھا۔جنگ میں عموماً چند ایک عورتیں بھی ساتھ جاتی تھیں جو کھانے پینے کا انتظام کرنے کے علاوہ تیمار داری اور زخمیوں کی مرہم پٹی کا کام بھی کرتی تھیں اور لڑائی کے وقت فوجیوں کو پانی بھی لا کر دیتی تھیں۔بعض خاص خاص موقعوں پر مسلمان عورتوں نے کفار کے خلاف تلوار بھی چلائی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ سفر میں اپنی ازواج میں سے کسی ایک کو یا ایک سے زیادہ کو جیسا کہ موقع ہوا اپنے ساتھ رکھتے تھے اور اس کے لئے آپ قرعہ ڈالا کرتے تھے اور جس کا نام قرعہ میں نکلتا تھا اسے ساتھ لے جاتے تھے۔جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عام طریق تھا کہ جب کبھی آپ کو کسی دشمن قبیلہ کے متعلق یہ اطلاع ملتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو آپ پیش دستی کر کے اس کے حملہ کو روکنے کی کوشش فرماتے تھے اور ایسا نہیں کرتے تھے کہ دشمن کو پوری طرح تیاری کر لینے کا موقع دیں اور اس کے حملہ کا انتظار کرتے رہیں اور جب وہ عملاً حملہ کر دے تو پھر اس کا مقابلہ کریں۔نیز آپ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ اسلامی لشکر دشمن تک اچانک پہنچ جائے اور اسے اطلاع نہ ہو۔ان تدابیر سے آپ نے مسلمانوں کو بہت سے مصائب سے بچالیا۔جب آپ کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تھے تو انہیں چلتے ہوئے یہ نصیحت فرماتے تھے کہ جب تم دشمن کے سامنے ہو تو اسے تین باتوں کی طرف دعوت دو۔اور اگر ان باتوں میں سے وہ کوئی ایک بات بھی مان لے تو اسے قبول کر لو اور لڑائی سے رک جاؤ۔سب سے پہلے اسے اسلام کی دعوت دو اگر وہ لوگ مسلمان ہونا پسند کریں تو پھر انہیں ہجرت کرنے کی تحریک کرو۔اگر وہ ہجرت کرنا قبول نہ کریں تو ان سے کہو کہ اچھا تم مسلمان رہو اور اپنے گھروں میں ٹھہر ولیکن اگر وہ مسلمان ہونا ہی -^ - 1+ -11