سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 356 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 356

۳۵۶ ہے۔اس جگہ یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ اوپر کی بحث میں ہم نے عام طور پر صرف دفاع اور خود حفاظتی کی غرض کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کی ابتداء زیادہ تر اسی غرض کے ماتحت ہوئی تھی جیسا کہ ابتدائی قرآنی آیت سے ظاہر ہے اور باقی اغراض بعد میں آہستہ آہستہ حالات کے ماتحت پیدا ہوتی گئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مغازی کا بیان شروع کرنے سے قبل مناسب اسلامی آداب جہاد معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مختصر طور پر وہ آداب بھی بیان کر دئے جائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً جہاد میں ملحوظ رکھتے تھے اور جن کی صحابہ کو تاکید کی جاتی تھی۔یہ آداب عموماً صحاح ستہ کی کتب الجهاد والسیر والمغازی سے ماخوذ ہیں۔اور اس لئے میں نے صرف ان باتوں کا حوالہ درج کیا ہے جو یا تو بہت اہم ہیں اور یا نسبتاً کم معروف ہیں اور باقی کے حوالے کی ضرورت نہیں سمجھی۔سو جاننا چاہئے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفروں کو حتی الوسع جمعرات کے دن شروع کرنا پسند فرماتے تھے -٢ -٣ - اور گھر سے عموماً صبح کے وقت نکلتے تھے۔روانگی سے قبل دعا کرنا آپ کی سنت تھی۔دشمن کی حرکات و سکنات کا علم حاصل کرنے کے لئے آپ خبر رسانی کا پختہ انتظام رکھتے تھے اور عام طور پر خبر رسانوں کو یہ ہدایت ہوتی تھی کہ جب کوئی خبر لائیں تو عام مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں اور اگر کوئی تشویشناک خبر ہوتی تھی تو آپ پھر خود بھی اس کا عام اظہار نہیں فرماتے تھے۔البتہ خاص خاص صحابہ کو اس کی اطلاع دے دیتے تھے۔لے جب آپ کسی جنگی غرض سے نکلتے تھے تو آپ کا یہ عام طریق تھا کہ اپنی منزل مقصود کا علم نہیں دیتے تھے اور بعض اوقات ایسا بھی کرتے تھے کہ اگر مثلاً جنوب کی طرف جانا ہوتا تھا تو چند میل شمال کی طرف جا کر پھر چکر کاٹ کر جنوب کی طرف گھوم جاتے تھے۔آپ کی عادت تھی کہ شہر سے تھوڑی دور نکل کر فوج کا جائزہ لیا کرتے تھے اور سب انتظام ٹھیک ٹھاک کرنے کے بعد آگے روانہ ہوتے تھے۔جب کوئی اہم مہم پیش آتی تھی تو آپ اس کے لئے صحابہ میں تحریک فرماتے تھے پھر جو لوگ اس ا : زرقانی حالات غزوہ اُحد و خندق : بخاری حالات غزوہ تبوک و زرقانی حالات غزوہ بنولحیان