سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 348 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 348

۳۴۸ رہتی لیکن اس خیال سے کہ کسی شخص کو یہ شبہ نہ گزرے کہ شاید عام تاریخی روایات قرآن کے مخالف ہوں اس جگہ بعض روایات بھی درج کر دینی مناسب ہیں جن سے اسلام کی ابتدائی لڑائیوں پر ایک اصولی روشنی پڑتی ہے۔سو روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ: يأَيُّهَا النَّاسُ لاَ تَتَمَنَّا لِقَاءَ الْعَدُقِ وَاسْتَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا ”اے مسلمانو ! تمہیں چاہئے کہ دشمن کے مقابلہ کی خواہش نہ کیا کرو اور خدا سے امن وعافیت کے خواہاں رہو اور اگر تمہاری خواہش کے بغیر حالات کی مجبوری سے کسی دشمن کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو جائے تو پھر ثابت قدمی دکھاؤ۔“ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ کفار کی طرف سے اعلان جنگ ہو چکا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کا چیلنج قبول کر لیا تھا اور جنگ کا آغاز ہو چکا تھا پھر بھی مسلمانوں کو یہی حکم تھا کہ وہ اس جنگ کے جزوی مقابلوں میں بھی لڑائی کی خواہش نہ کیا کریں۔ہاں البتہ اگر دشمن سے مقابلہ ہو جاوے تو پھر جم کر لڑیں۔پھر روایت آتی ہے کہ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شُجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً أَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص ہے کہ وہ اپنی بہادری کے اظہار کے لئے جنگ کرتا ہے اور ایک شخص ہے کہ وہ خاندانی یا قومی غیرت کی وجہ سے لڑتا ہے اور ایک شخص ہے کہ وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے لڑائی کرتا ہے۔ان میں سے کون سا شخص فی سبیل اللہ لڑنے والا سمجھا جاسکتا ہے۔آپ نے فرمایا کوئی بھی نہیں بلکہ خدا کے رستے میں وہ شخص لڑنے والا سمجھا جائے گا جو اس لئے لڑتا ہے کہ جو کوشش کفار کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے دین کو مغلوب کرنے کی جاری ہے اس کا قلع قمع ہو اور خدا کا دین کفار کی ان کوششوں کے مقابل پر غالب آجاوے۔“ عَنْ بَرِيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ل : بخاری و مسلم وابو داؤد ہے : بخاری و مسلم وابوداؤد و ترمذی ونسائی