سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 21
۲۱ ہے اور اس پر زیادہ زور دینا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے محدود علم اور محدود تجربہ اور محمد و مشاہدہ اور محدود استدلال سے ساری دنیا اور سارے زمانوں کے علم کو ناپنا چاہتے ہیں۔اور ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ نظریہ دنیا کی علمی ترقی کے لئے ایک سم قاتل سے کم نہیں۔اگر ابتدائی مسلمان محدث یا مؤرخ درایت پر اس قدر زور دیتے جتنا میور صاحب اور ان کے ہم عقیدہ اصحاب چاہتے ہیں کہ دینا چاہئے تھا تو یقیناً بانی اسلام کے متعلق بہت سے مفید معلومات کا ذخیرہ ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا، کیونکہ اس صورت میں ان میں سے کوئی مصنف کسی بات کو اور کوئی کسی کو اپنی درایت کے خلاف پا کر ترک کر دیا حالانکہ بالکل ممکن ہے کہ وہ صحیح درایت کے خلاف نہ ہوتیں؛ چنانچہ ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ کئی باتیں جو گذشتہ زمانوں میں سمجھ نہیں آتی تھیں آج ان کا سمجھنا آسان ہو رہا ہے۔پس پختہ اور صحیح اصول وہی تھا جو ابتدائی مسلمان مصنفین نے اختیار کیا کہ انہوں نے اصل بنیا د روایت کے اصول پر رکھی مگر روایت کی مدد کے لئے ایک حد تک درایت کو بھی کام میں لاتے رہے۔اور اس طرح انہوں نے اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے ایک عمدہ ذخیرہ روایات کا جمع کر دیا۔اور اب یہ ہم لوگوں کا کام ہے کہ روایت و درایت کے اصول کے مطابق اس ذخیرہ کی چھان بین کر کے صحیح کو ستقیم سے جدا کر لیں۔روایات کا قلمبند ہونا گو اصول روایت کے لحاظ سے کسی روایت کا لکھا ہوا ہونا ضروری نہیں ہے اور گواصول اسلامی روایات میں ایک بڑا حصہ ایسی روایتوں کا شامل ہے جو کم از کم ابتداء میں صرف زبانی طور پر سینہ بہ سینہ مروی ہوئی ہیں لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ابتدائے اسلام سے ہی بعض راویوں کا یہ طریق رہا ہے کہ جو حدیث بھی وہ سنتے تھے یا جو روایت بھی ان تک پہنچتی تھی اسے وہ فوراً لکھ کر محفوظ کر لیتے تھے اور جب کسی کو آگے روایت سُناتے تھے تو اس لکھی ہوئی یادداشت سے پڑھ کر سناتے تھے جس سے ان روایات کو مزید مضبوطی حاصل ہو جاتی تھی۔اس قسم کے لوگ صحابہ کرام میں بھی پائے جاتے تھے اور بعد میں بھی۔بلکہ بعد میں جوں جوں علم ترقی کرتا گیا اور فن تحریر زیادہ پھیلتا گیا، ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی۔حتی کہ اس زمانہ میں آکر جب کہ روایات کتابی صورت میں جمع ہونے لگیں اور موجودہ کتب حدیث وغیرہ کے مجموعے عالم وجود میں آنے شروع ہوئے جس کا آغاز دوسری صدی ہجری سے سمجھا جا سکتا ہے روایات کو لکھ کر محفوظ کر لینے کا طریق عام طور پر رائج ہو چکا تھا اور راوی لوگ اپنی روایات کو دوسروں تک پہنچاتے ہوئے اپنی تحریری یا داشتوں سے کثرت کے ساتھ مدد لینے لگ گئے تھے لیکن چونکہ محض کسی تحریری یادداشتوں کا موجود ہونا اسے قابل سند نہیں بنا سکتا جب تک کہ اس کی