سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 319
۳۱۹ قرآن شریف نے جو مخالفین اسلام کے نزدیک بھی اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ مستند ریکارڈ ہے مسلمانوں کی اس حالت کا مندرجہ ذیل الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے۔وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فَاوِيكُمْ وَأَيَّدَكُمُ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الظَّيْبَتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَO یعنی اے مسلمانو! وہ وقت یاد رکھو جبکہ تم ملک میں بہت تھوڑے اور کمزور تھے اور تمہیں ہر وقت یہ خوف لگا رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اُچک کر لے جائیں یعنی اچانک حملہ کر کے تمہیں تباہ نہ کرد میں مگر خدا نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مددفرمائی اور تمہارے لئے پاکیزہ نعمتوں کے دروازے کھولے۔پس تمہیں اب شکر گزار بندے بن کر رہنا چاہئے۔“ سچ ہے اگر اللہ کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت واقعی ایسی نازک ہو رہی تھی کہ ظاہری اسباب کے ماتحت ان کی زندگی کے دن بہت محدود نظر آتے تھے۔بیشک مکہ میں بھی ان کے لئے مصائب تھے اور سخت مصائب تھے اور انہیں دن رات قریش کے بے دردانہ مظالم کا تختہ مشق بن کر رہنا پڑتا تھا لیکن مدینہ میں ان کی حالت شروع شروع میں کئی لحاظ سے زیادہ نازک اور زیادہ خطرناک ہوگئی تھی، کیونکہ مکہ میں صرف قریش کی طرف سے اندیشہ تھا اور قریش کے متعلق مسلمانوں کو ایک حد تک یہ اطمینان تھا کہ خواہ ان کی مخالفت کیسی بھی سخت صورت اختیار کرے جب تک مسلمان مکہ میں ہیں قبائل کے باہمی تعلقات کا خیال قریش کو اس بات سے باز رکھے گا کہ وہ ایک جتھے کی صورت میں مسلمانوں پر حملہ آور ہوکر بلاتمیز سب کو تہ تیغ کردیں۔مختلف قبائل کی باہمی رقابتیں رشتہ داری کے احساسات وغیرہ کئی اس قسم کی باتیں تھیں جو عموما قریش کو مسلمانوں کے خلاف ہاں کم از کم معزز خاندانوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے خلاف انتہائی کاروائی کرنے سے باز رکھتی تھیں۔چنانچہ یاد ہوگا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا فیصلہ کس قدر طویل بحث و تامل کے بعد اور پھر کتنی احتیاطوں کے ساتھ اختیار کیا تھا، لیکن اب ہجرت کے بعد نہ صرف یہ کہ قریش مکہ کی مخالفت بہت زیادہ چمک گئی تھی اور اس خیال نے کہ مسلمان ان کے ہاتھ سے بچ کر نکل گئے ہیں اور غیروں کے ہاں پناہ گزیں ہوئے ہیں ان کے بغض و عداوت کی آگ کو خطرناک طور پر بھڑکا دیا تھا۔بلکہ عرب کے دوسرے قبائل بھی ایک جان ہو کر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور خود مدینہ کے شہر میں ایسے منافقین موجود ا : سورۃ الانفال: ۲۷