سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 310
۳۱۰ رہو گے تم اجر سے محروم نہیں ہو سکتے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف سعد بن الربیع انصاری کے بھائی بنے تھے سعد نے اپنا سارا مال و متاع نصف گن گن کر عبدالرحمن بن عوف کے سامنے رکھ دیا اور جوش محبت میں یہاں تک کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں۔میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں اور پھر اس کی عدت گزرنے پر تم اس کے ساتھ شادی کر لینا۔یہ سعد کی طرف سے جوش محبت کا ایک بے اختیاری اظہار تھا۔ورنہ وہ اور عبدالرحمن دونوں جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے ان کا شکر یہ ادا کیا اور ان کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدا یہ سب کچھ تمہیں مبارک کرے۔مجھے بازار کا رستہ بتا دو۔چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے تجارت شروع کی اور چونکہ وہ نہایت ہوشیار اور سمجھ دار آدمی تھے۔آہستہ آہستہ ان کی تجارت چمک اٹھی اور بالآخر وہ ایک نہایت امیر کبیر آدمی بن گئے۔ابھی ان کی تجارت ابتدائی حالت میں ہی تھی اور انہیں مدینہ میں آئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ انہوں نے مدینہ کی ایک انصاری لڑکی سے شادی کر لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کپڑوں پر زعفران کا رنگ دیکھا جو عرب دستور کے مطابق شادی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔تو مسکراتے ہوئے دریافت فرمایا۔” ابن عوف یہ کیا ماجرا ہے؟ عبد الرحمن نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں نے ایک لڑکی سے شادی کر لی ہے۔“ آپ نے پوچھا۔”مہر کیا دیا ہے؟ عبد الرحمن نے جواب دیا۔'یا رسول اللہ ! کھجور کی ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔آپ نے فرمایا۔اَولِمُ وَلَوْ بِشَاةٍ تو اب پھر ولیمہ کی دعوت کرنی ہوگی خواہ صرف ایک بکری کے گوشت کی کیوں نہ ہو۔یعنی اب تمہاری حیثیت ایسی نہیں ہے کہ ایک دو دوستوں کو کھانا کھلا کر سمجھو کہ بس ولیمہ ہو گیا بلکہ کم از کم ایک بکری کے اندازہ کا گوشت تو دعوت میں پکنا چاہئے۔اس سلسلہ مواخات کا اثر وراثت تک پر تھا۔چنانچہ یہ فیصلہ تھا کہ اگر کوئی انصاری فوت ہو تو اس کا ترکہ بحصہ رسدی اس کے بھائی مہاجر کو بھی ملے۔یہ سمجھوتہ جنگ بدر تک قائم رہا جس کے بعد یہ طریق وراثت خدا کی وحی کے ماتحت منسوخ ہو گیا اور صرف حقیقی رشتہ دار وارث قرار دئے گئے۔اس سلسلہ مواخات میں حضرت ابوبکر خارجہ بن زید کے بھائی بنے ، حضرت عمر عتبان بن مالک کے، حضرت عثمان اوس بن ثابت کے، ابوعبيدة بن الجراح سعد بن معاذ کے، سعید بن زید ابی بن کعب کے سلمان فارسی ابودرداء کے، مصعب بن عمیر ابوایوب انصاری کے ، عمار بن یاسر حذیفہ بن یمان کے۔وغیر ذالک مواخات کا یہ سلسلہ کئی لحاظ سے مفید اور بابرکت ہوا۔: ابوداؤد : بخاری باب فضائل اصحاب النبی ۳ : زرقانی ذکر موافاة