سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 309 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 309

۳۰۹ مواخات انصار و مہاجرین اس وقت مدینہ کے مسلمان دوحصوں میں منقسم تھے۔ایک تو وہ تھے جو مدینہ کے باشندے نہ تھے بلکہ مکہ یاکسی اور جگہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آباد ہو گئے تھے۔یہ لوگ بوجہ اپنی ہجرت کے مہاجرین کہلاتے تھے۔دوسرے وہ لوگ تھے جو مدینہ کے رہنے والے تھے اور چونکہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مہاجرین کو پناہ دی تھی اور ان کی اعانت کا بیڑا اٹھایا تھا اس لئے وہ انصار کے نام سے موسوم ہوتے تھے۔مہاجرین عام طور پر مدینہ میں بالکل بے سروسامان تھے کیونکہ غریب تو غریب تھے ہی متمول مہاجرین بھی عموماً اپنا سب مال و متاع وطن میں چھوڑ کر نکل آئے تھے۔انصار نے ان کے ساتھ حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا اور کوئی دقیقہ ان کی مہمان نوازی کا اٹھا نہیں رکھا۔لیکن اس رشتہ اخوت کو اور بھی مضبوط کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تجویز فرمائی کہ انس بن مالک کے مکان پر انصار ومہاجرین کو جمع فرمایا اور با ہم مناسبت کوملحوظ رکھتے ہوئے دو دو کا جوڑا بنا کر انصار و مہاجرین کے کم و بیش نوے اشخاص کے درمیان با قاعده رشته اخوت قائم کر دیا۔اس سلسلہ موافاة پر طرفین کی طرف سے جس محبت اور اخلاص اور وفاداری کے ساتھ عملدرآمد ہوا وہ آجکل کی حقیقی اخوت کو بھی شرماتا ہے۔انصار ومہاجرین بھائی بھائی کیا بنے گویا ایک جان دو قالب ہو گئے۔پہلی تجویز انصار نے اس رشتہ اخوت کے بعد یہ کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست پیش کی کہ آپ ہمارے باغات کو ہم میں اور ہمارے بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔لیکن چونکہ مہاجرین عموماً تجارت پیشہ تھے اور کھیتی باڑی کے کام سے قطع نا واقف تھے بلکہ مکہ والے تو اس کام کو پسند بھی نہیں کرتے تھے ، اس لئے پھر انصار نے خود ہی یہ تجویز پیش کی کہ باغات کا انتظام اور محنت ہم کریں گے ، مگر ماحصل میں سے مہاجرین کو حصہ مل جایا کرے۔چنا نچہ اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا حتی کہ آہستہ آہستہ مہاجرین کی تجارتیں جن میں وہ مدینہ میں آکر مشغول ہو گئے تھے چل نکلیں اور ان کی اپنی جائیداد میں بھی بن گئیں اور انصار کی طرف سے امداد کی ضرورت نہ رہی ہے لکھا ہے کہ جب مہاجرین نے انصار کی طرف سے اس غیر معمولی لطف و شفقت کو دیکھا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر انصار کے اس سلوک کی بہت تعریف کی اور کہا کہ یا رسول اللہ انصار کی اس نیکی کو دیکھ کر ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں خدا سے سارا اجر وہی نہ لے جائیں۔آپ نے فرمایا۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا جب تک تم ان کی نیکی کے شکر گزار اور خدا کے حضور ان کے لئے دست بدعا ل : بخاری باب الحجرت و نیز دیکھو مسلم کتاب الجہاد باب رد المہاجرین الی الانصار سے : مسلم باب مذکور