سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 305
۳۰۵ سفر و حضر کی نماز کے امتیاز کے علاوہ جس کا ذکر ابھی کیا گیا ہے نماز کی ظاہری شکل وصورت کا ملحوظ رکھنا عام حالات میں ضروری ہے لیکن جو شخص بیماری وغیرہ کی وجہ سے نماز کو اس کی مقررہ صورت میں ادا نہ کرسکتا ہواس کے لئے اجازت ہے کہ ظاہری صورت کو ترک کر کے بیٹھے بیٹھے یا اگر یہ بھی مشکل ہو تو لیٹے لیٹے ہی نماز ادا کر لے۔اسی طرح نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنا واجبات میں سے ہے لیکن جب کوئی شخص سفر میں ہو اور سواری پر بیٹھے ہوئے اسے جہت کا پتہ نہ لگ سکے یا وہ جہت کو قائم نہ رکھ سکے تو اسلام اسے اختیار دیتا ہے کہ جدھر اس کی سواری کا رخ ہو ادھر منہ کر کے نماز ادا کر لے۔اسی طرح نماز کے لئے مقررہ طریق پر وضو کرنا ضروری ہے لیکن ایسا شخص جسے پانی نہ ملے یا جسے وضو کر نے سے بیماری کا اندیشہ ہو وہ وضو ترک کرسکتا ہے۔وغیر ذالک اسی طرح دوسرے امور میں بھی جہاں کہیں کوئی معقول عملی دقت پیدا ہو جاتی ہے اسلام اپنے احکام کی صورت کو مناسب طور پر بدل کر اس کی جگہ کوئی دوسری صورت پیش کر دیتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ اول تو اسلام کا پیغام ایک عالمگیر وسعت رکھتا ہے جس میں حالات کے اختلاف کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور دوسرے یہ کہ شریعت اسلامی میں اصل مقصود عبادات کی روح ہے اور عبادات کا جسم صرف اس روح کے بقا اور حفاظت کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی لئے جہاں کہیں بھی حالات کے بدل جانے سے جسم کا اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے وہاں جسم کو ترک کر کے روح کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی جملہ عبادات میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ نماز مومن کا معراج ہے۔نیز فرماتے تھے کہ نماز ایسی عبادت ہے جس میں بندہ اپنے خدا سے ہمکلام ہوتا اور گویا اس کی مجلس میں پہنچ جاتا ہے اور آپ کو نماز سے اس قدر محبت تھی کہ نماز پنجگانہ تو خیر فرض ہی ہے دوسری نوافل نمازیں بھی آپ نہایت کثرت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور نماز تہجد یعنی نصف شب کی نماز سے تو آپ کو اتنا شغف تھا کہ آپ نہایت التزام کے ساتھ بلا ناغہ اس نماز کے لئے اٹھا کرتے تھے اور روایت آتی ہے کہ آپ اس قدر دیر تک نماز تہجد میں کھڑے رہتے تھے کہ بعض اوقات آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے اور آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جُعِلَتْ قُرَّةَ عَيْنِي فِی الصَّلوة یعنی نماز تو میری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اور آپ اپنے صحابہ کو نماز کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ اگر لوگوں کو یہ علم ہو کہ نماز با جماعت میں کیا خوبی ہے تو خواہ انہیں اپنے گھٹے گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آنا پڑے وہ ضرور آئیں۔اپنی آخری بیماری میں جبکہ آپ کو غشی پرغشی آتی