سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 17 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 17

اس بات سے کوئی جوڑ نہیں رکھتا کہ اس کے استعمال سے وضوضروری ہو جائے۔دوسرے یہ کہ جب دین کی بنائیر اور آسانی پر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف یہ قول کس طرح منسوب ہو سکتا ہے کہ بس جس چیز کو بھی آگ چھو جائے اس سے وضو واجب ہو جاتا ہے اور اسی لیے با وجو د حضرت ابو ہریرہ کی اس صریح حدیث کے اکثر ائمہ حدیث وفقہ کا یہی مذہب ہے کہ آگ والی چیز کے استعمال سے وضو واجب نہیں ہوتا۔اور بعض دوسری حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ حضرت ابنِ عباس یا بعد کے ائمہ حدیث کے نزدیک ابو ہریرہ نے جو روایت بیان کی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو ہے ، مگر وہ قابلِ عمل نہیں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ ابنِ عباس اور دوسرے محققین کے نزدیک اس روایت میں ابو ہریرہ کو غلط فہمی ہوئی ہے یا آپ کا ارشاد بعض خاص قسم کے حالات کے متعلق ہو گا جسے ابو ہریرہ نے عام سمجھ کر اُسے وسعت دے لی۔بہر حال باوجود اس کے کہ اصول روایت کے لحاظ سے یہ حدیث بالکل صحیح قرار پاتی ہے، مسلمان محققین نے درایت کی بنا پر اسے صحیح تسلیم نہیں کیا۔اور جب ابو ہریرہ جیسے گہنہ مشق راوی کی روایت درایت کی جرح سے محفوظ نہیں سمجھی گئی تو میور صاحب کے اس قول کی حقیقت ظاہر ہے کہ مسلمان صرف روایتی پہلو کو دیکھ کر ہر بات کو صحیح مان لیا کرتے تھے اور درایت کو کام میں نہیں لاتے تھے۔پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ كُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ۔۔۔۔۔فَحَدَّتْ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَجْعَلُ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً ثُمَّ اَخَذَ الأَسْوَدُ كَفَّا مِنْ حَصًى فَحَصَبَهُ بِهِ فَقَالَ وَيْلَكَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا ، قَالَ عُمَرُ لَا نَتْرُكُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ اَوْنَسِيَتْ یعنی ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں ایک مجلس میں اسود بن یزید کے ساتھ بیٹھا تھا کہ شعمی نے یہ روایت بیان کی کہ فاطمہ بنت قیس صحابیہ بیان کرتی ہے کہ جب اس کے خاوند نے اُسے طلاق دے دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکان اور خرچ نہیں دلایا۔اس پر اسود نے ایک کنکروں کی میٹھی اُٹھا کر شعمی کو ماری اور کہا کیا تم یہ حدیث بیان کرتے مسلم كتاب الطلاق باب المطلقه البائن لا نفقة لها -