سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 16
۱۶ یعنی ایک انسان کے جھوٹا ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ جو بات بھی سنے اسے بلا تحقیق آگے روایت کرنا شروع کر دے اس حدیث میں گوروایتی تحقیق کی طرف بھی اشارہ ہے، مگر اصل مقصود درایتی تحقیق ہے جیسا کہ بِكُلِّ مَا سَمِعَ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں۔یعنی محض کسی بات کائننا اس کے قبول کیے جانے کا باعث نہیں بننا چاہئے بلکہ دوسری جہات سے بھی غور کرنا چاہئے کہ آیا جو خبر ہمیں پہنچی ہے وہ قابل قبول ہے یا نہیں ، بلکہ اس حدیث میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ جو شخص تحقیق کرنے کے بغیر یونہی ہر سنی سنائی بات آگے روایت کر دیتا ہے وہ جھوٹ کی اشاعت کا ایسا ہی ذمہ دار ہے جیسا کہ جھوٹ بولنے والا شخص۔الغرض قرآن شریف و حدیث دونوں اس اصول کو بیان کرتے ہیں کہ ہر خبر کی تصدیق کے متعلق روایت و درایت دونوں پہلو مد نظر رہنے چاہئیں ، چنانچہ اس اصل کے ماتحت حدیث میں کثرت کے ساتھ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ صحابہ اور ان کے بعد آنے والے مسلمان محققین نے ہمیشہ روایت کے پہلو کے ساتھ درایت کے پہلو کو بھی مدِ نظر رکھا ہے اور بسا اوقات روایتی لحاظ سے ایک روایت کے مضبوط ہونے کے باوجو د درایت کی بنا پر اسے رڈ کر دیا ہے۔مثلاً حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ انَتَوَضَّأُ مِنَ الدُّهْنِ اَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ۔۔۔۔۔فَقَالَ أَبُو عِيسَى وَاَكْثَرُ اَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَرَكِ الْوُضُوءِ د یعنی ایک مجلس میں ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس کے استعمال سے وضو ضروری ہو جاتا ہے۔اس پر ابن عباس نے ابو ہریرہ کو ٹوک کر کہا کہ کیا پھر ہم گھی یا تیل کے استعمال کے بعد بھی وضو کیا کریں۔اور کیا ہم گرم پانی کے استعمال کے بعد بھی وضو کیا کریں؟ یہ روایت درج کر کے ترمذی علیہ الرحمۃ بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر تیار کی ہوئی چیز کے استعمال سے وضوضروری نہیں ہو جاتا۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ تک کی روایت کو جن کی روایات کی تعدا د سارے صحابہ سے زیادہ ہے حضرت ابن عباس نے اس عقلی دلیل سے رڈ کر دیا کہ اول تو محض آگ پر کسی چیز کا تیار ہونا ترمذى كتاب الطهارة باب مَاغَيَّرَتِ النَّارُ