سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 287
۲۸۷ بسم الله الرّحمن الرّحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود عرض حال جلد دوم سيرة خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل دیباچہ تو تکمیل تصنیف کے وقت ہی لکھا جا سکے گا مگر اس جگہ چند الفاظ حصہ دوم کے متعلق مخصوص طور پر عرض کرنے ضروری ہیں۔ابتداء ۱۹۱۹ء میں جب میں نے بطور خود رساله ریویوآف ریلیجنز قادیان کے لئے سیرة کی تصنیف کا کام شروع کیا تو اس وقت اس کی غرض و غایت بہت محدود تھی۔چنانچہ سیرۃ کا حصہ اوّل جو ۱۹۲۰ء میں کتابی صورت میں شائع ہوا وہ اسی محدودغرض و غایت کے ماتحت تھا جو صرف یہ تھی کہ ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سادہ اور مختصر سوانح عمری میسر آ جاوے۔کوئی علمی تحقیق یا محققانہ تبصرے اس وقت میرے مدنظر نہ تھے۔چنانچہ اسی غرض سے حصہ اول میں حوالے تک درج نہیں کئے گئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمد یہ قادیان کو اس کام کی تکمیل کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے ۱۹۲۹ء کے اوائل میں مجھے سیرت کے حصہ دوم کی تیاری کے متعلق ارشاد فرمایا تو ساتھ ہی یہ ہدایت فرمائی کہ ہر قسم کے طبقہ کو مدنظر رکھ کر اس حصہ میں حصہ اوّل کی نسبت زیادہ مستقل تحقیق و تدقیق سے کام لیا جاوے لیکن یہ کوشش کی جاوے کہ کتاب کا حجم حتی الوسع زیادہ نہ ہونے پائے۔جس حد تک میں اس ہدایت کی تعمیل کر سکا ہوں وہ اب حصہ دوم کی صورت میں ناظرین کے سامنے ہے۔اگر اس کے بعض حصوں میں میں نے حد مناسب سے زیادہ طوالت سے کام لیا ہے تو وہ غالبا میرے اس طبعی نقص کی وجہ سے ہے کہ میں تحریر میں اختصار پر زیادہ قابونہیں رکھ سکتا اور میں ڈرتا ہوں کہ شاید اس جہت سے میں حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ کی ہدایت پر پوری طرح