سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 282 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 282

۲۸۲ ہجرت نبوی اور اس کی علت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی ہجرت کوئی خوشی کا سفر نہ تھا جو سیر و سیاحت کی غرض سے کیا گیا ہو بلکہ یہ سفرقریش کے ان بیدر دانہ مظالم کا نتیجہ تھا جن کا مسلمان سالہا سال سے تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔حتی کہ آخر تنگ آ کر مسلمانوں اور ان کے محبوب آقا کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا۔جو جو مظالم ان ابتدائی تیرہ سالوں میں مسلمانوں نے قریش مکہ اور ان کے ہم خیالوں کے ہاتھوں برداشت کئے ان کا صحیح صحیح اندازہ کرنا محال ہے۔صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ عرب جیسے جاہل اور آزاد ملک میں قریش جیسی وحشی اور متکبر قوم اپنی عداوت کے جوش و خروش میں جو جو مظالم کمزور و بے بس مسلمانوں پر کر سکتی تھی وہ سب اس نے کئے۔مسلمانوں کی تذلیل کے لیے ان پر ہنسی اور مذاق اڑایا گیا۔ان کے خلاف دلآ زار طعن و تشنیع اور گندی گالی گلوچ سے کام لیا گیا۔ان کو خدا کی عبادت سے روکا گیا اور توحید کے اعلان سے جبرا منع کیا گیا۔ان کو اُن کے پیارے اور محبوب آقا سے الگ کر دینے کی کوشش کی گئی۔اُن کو نہایت بے دردانہ طور پر مارا اور پیٹا گیا۔ان میں سے بعض کو نہایت وحشیانہ طور پر قتل کیا گیا۔ان کی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ان کا بائیکاٹ کر کے اُن کو بھوک اور پیاس سے ہلاک کرنے کی ٹھانی گئی۔ان کے مال و متاع چھین لیے گئے۔حتی کہ ان کو اپنے وطن سے نکل کر بھاگنا پڑا اور جو ٹھہرے وہ سینے پر پتھر رکھ کر ٹھہرے۔پھر ان کے آقا اور سردار کو جو انہیں اُن کی جانوں سے زیادہ عزیز تھا سخت سے سخت دکھ دیئے گئے اور بر ملا بدنی تکالیف پہنچائی گئیں اور اس پر پتھر برسائے گئے حتی کہ اس کا بدن خون سے تر بتر ہو گیا اور آخر اس کے قتل کا منصوبہ کیا گیا اور منصوبہ بھی ایسا کہ جس میں سب قبائل قریش شریک تھے اور ہر قبیلہ اس کے مقدس خون سے اپنے ناپاک ہاتھ رنگنے کے واسطے تیار ہو گیا اور اسلام کے پودہ کو جڑ سے اکھیڑ پھینکنے کی ٹھان لی گئی۔تو کیا ان مظالم کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی ہجرت کوئی معمولی سفر تھا کہ یونہی رائیگاں جاتا اور خدائے غیور کی غیرت جوش میں نہ آتی ؟ نہیں بلکہ ہجرت میں خدا کی طرف سے یہ صاف اشارہ تھا کہ اب قریش کے مظالم کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے اور وقت آ گیا ہے کہ ظالم اپنی کیفر کردار کو پہنچے۔