سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 14
۱۴ مسلمان انہی کے مطابق وہ اپنی روایات کی تحقیق و تدقیق کرتے رہے ہیں۔اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ روایات کی پڑتال کے لیے ان سے بڑھ کر کوئی کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ہمارا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ یہ ساری باتیں لازماً ہر مسلمان محدث یا مؤرخ کے پیش نظر رہی ہیں مگر اس میں قطعاً کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ وہ اصول ہیں جو محققین نے ابتدائے اسلام میں اپنی روایات کی تحقیق کے لیے وضع کئے اور جنہیں وہ بالعموم اپنی تصانیف میں ملحوظ رکھتے رہے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ذاتی میلان کی وجہ سے ایک محقق کسی بات کو زیادہ وزن دیتا ہو اور دوسرا کسی اور کو یا کوئی مصنف اپنے مجموعہ کو زیادہ جامع بنانے کے لیے یا بعض روایات کی امکانی صحت کے خیال سے کمزور روایتوں کو بھی لے لیتا ہو یا کوئی مصنف ایسے ہی غیر محتاط ہو، کیونکہ کسی طبقہ کے سب لوگ ایک درجہ کے نہیں ہوتے مگر بہر حال روایت و درایت دونوں کے اصول کو ابتدائی مسلمانوں نے بالعموم اپنے مد نظر رکھا ہے اور زیادہ محتاط مصنفین پوری تختی کے ساتھ ان پر کار بندر ہے ہیں۔روایت کے اصول کے متعلق تو ہمیں مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اسلامی تحقیق کا یہ پہلو دوست و دشمن سب کے نزدیک مسلم ہے؛ البتہ چونکہ بعض مغربی محققین نے جن میں سرولیم میور بھی شامل ہیں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں نے درایت کے پہلو کو مد نظر نہیں رکھا اور صرف روایت کے اصول کے ماتحت اپنی روایتوں کی پڑتال کرتے رہے ہیں یا اس لیے درایت کے پہلو کے متعلق اس جگہ بعض مثالیں درج کی جاتی ہیں تاکہ ناظرین کو اس بات کا اندازہ کرنے کا موقع ملے کہ یہ اعتراض کس قدر غلط اور بے بنیاد ہے۔سب سے پہلے خود قرآن شریف اس بات کو پیش کرتا ہے کہ محض روایت پر بنیاد رکھنا ہر صورت میں کافی نہیں بلکہ کسی خبر کو صحیح سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کے متعلق اچھی طرح تحقیق کر لی جائے۔چنانچہ فرماتا ہے: إنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا د یعنی اگر تمہارے پاس کوئی خبر پہنچے تویہ دیکھ لیا کرو کہ خبر لانے والا کیسا آدمی ہے۔پھر اگر یہ راوی قابلِ اعتماد نہ ہو تو اچھی طرح سارے پہلوؤں پر نظر ڈال کر سوچ لیا کرو۔“ اس آیت سے گو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف روایت کی صحت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر غور کرنے سے یہ بات مخفی نہیں رہتی کہ دراصل یہ آیت روایت و درایت دونوں پہلوؤں کی حامل ہے؛ چنانچہ فاسق کے لفظ میں تو روایت کے پہلو کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ دیکھ لیا کرو کہ خبر لانے والا کیسا ے دیکھو لائف آف محمد مصنفه سرولیم میورد یا چه xxxviii الحجرات آیت نمبرے