سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 265
۲۶۵ اس وقت نہ صرف میرا محافظ ہے بلکہ تمہارا بھی اور وہ ہم دونوں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھے گالے سفر ہجرت اور تعاقب سراقہ بن مالک حضرت ابو بکڑ نے گھر سے نکلتے ہوئے اپنے بیٹے عبداللہ کو جو ایک بہت زیرک اور ہوشیار نو جوان تھے ہدایت کی تھی کہ قریش کی حرکات کا خیال رکھیں اور روزانہ غار ثور میں اطلاع دے جایا کریں۔چنانچہ وہ ایسا کرتے تھے کہ رات کو اندھیرا ہوتے ہی غار ثور میں پہنچ جایا کرتے تھے اور رات وہیں گزار کر صبح سویرے ہی واپس آ جایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کے خادم عامر بن فہیرہ کے سپر دیہ کام کیا گیا تھا کہ دن بھر بکریاں چرائیں اور رات کو اُن کے پاس دودھ پہنچا جایا کریں۔اس طرح آپ تین رات تک غار ثور میں ٹھہرے اور اس عرصہ تک یہی انتظام جاری رہا۔پھر جب قریش کے تعاقب کی کوشش میں کمی آگئی تو تیسرے دن صبح کے وقت آپ غار سے نکلے۔یہ پیر کا دن تھا اور چار ربیع الاول یا بعض مؤرخین کی تحقیق کے مطابق یکم ربیع الاول ۱۴ نبوی مطابق ۱۲ ستمبر ۶۲۲ء کی تاریخ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے پہلے سے ایک شخص عبداللہ بن اریقط کو جو قبیلہ بنی الدیل سے تھا اور باوجود عاص بن وائل رئیس مکہ کے ساتھ تعلق رکھنے کے قابل اعتماد تھا معقول اُجرت دینی کر کے بطور رہنما کے ساتھ چلنے کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔یہ شخص اپنے فن کا خوب ماہر تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر نے اسے پہلے سے اپنی اونٹنیاں سپر د کر رکھی تھیں اور سمجھا رکھا تھا کہ تین رات کے بعد تیسرے دن کی صبح کو اونٹنیاں لے کر غار ثور میں پہنچ جائے۔چنانچہ وہ حسب قرار داد پہنچ گیا۔یہ بخاری کی مشہور روایت ہے مگر مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو روانہ ہوئے تھے اور خود بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں اس کی لے : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلام جو قرآن شریف میں بھی مذکور ہے ایک خاص شان کا کلام ہے اور اس میں آپ کی اس ارفع شان کا پتہ چلتا ہے جو حضرت موسیٰ پر آپ کو حاصل تھی۔کیونکہ حضرت موسیٰ نے تو فرعون کے تعاقب کے وقت اپنی قوم کے گھبرا جانے پر صرف یہ لفظ کہے کہ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِین۔یعنی ”میرے ساتھ میرا خدا ہے وہ میرے لیے بچاؤ کا راستہ نکال دے گا۔“ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اللہ معنا کے الفاظ استعمال فرمائے۔یعنی ”میرے اور میرے ساتھی دونوں کے ساتھ خدا ہے۔آپ کے اس جملہ پر مقابلہ نظر ڈالنے سے آپ کے برتر اخلاق اور آپ کے صحابہ کے اعلیٰ مقام اور آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے بہتر سلوک پر بہت روشنی پڑتی ہے۔منہ : بخاری باب البجرت : بخاری باب الحجرت ۳ : زرقانی ومحمود پاشا مصری