سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 13
۱۳ بات کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہو۔۴۔اس کا حافظہ اچھا ہو۔-1 -^ -9۔- 1۔-1 -۲ اُسے مبالغہ کرنے یا خلاصہ نکال کر رپورٹ کرنے یا روایت میں کسی اور طرح تصرف کرنے کی عادت نہ ہو۔روایت بیان کردہ میں راوی کا کوئی اپنا ذاتی تعلق نہ ہو جس کی وجہ سے یہ خیال کیا جا سکے کہ اس کی روایت متاثر ہوسکتی ہے۔دو او پر نیچے کے راویوں کا آپس میں ملنا زمانہ یا حالات کے لحاظ سے قابلِ تسلیم ہو۔روایت کی تمام کڑیاں محفوظ ہوں اور کوئی راوی اوپر سے یا درمیان سے یا نیچے سے چھٹا ہوا نہ ہو۔مذکورہ بالا اوصاف کے ماتحت کسی روایت کے راوی جتنے زیادہ معتبر اور قابل اعتماد ہوں گے اتنی ہی وہ روایت زیادہ پختہ سبھی جائے گی۔اسی طرح ایک روایت کے متعلق معتبر راویوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی وہ روایت زیادہ مضبوط قرار دی جائے گی۔درایت کے اصول کے ماتحت مندرجہ ذیل امور زیادہ قابل لحاظ سمجھے گئے ہیں: روایت کسی معتبر اور مستند عصری ریکارڈ کے خلاف نہ ہو۔اس اصل کے ماتحت ہر روایت جو قرآن شریف کے خلاف ہے قابل رڈ ہوگی۔کسی مسلمہ اور ثابت شدہ حقیقت کے خلاف نہ ہو۔- کسی دوسری مضبوط تر روایت کے خلاف نہ ہو۔-۴ کسی ایسے واقعہ کے متعلق نہ ہو کہ اگر وہ صحیح ہے تو اس کے دیکھنے یا سننے والوں کی تعداد یقیناً زیادہ ہونی چاہئے لیکن پھر بھی اس کا راوی ایک ہی ہو۔روایت میں کوئی اور ایسی بات نہ ہو جو اسے عقلاً یقینی طور پر غلط یا مشتبہ قرار دیتی ہوئے درایت کے متعلق بعض ابتدائی مثالیں یہ وہ اصول ہیں جو مسلمان محققین نے اپنی روایات کی چھان بین کے لیے آغاز اسلام میں مقرر کئے اور ان اصول کے لیے دیکھو فتح المغیث مصنفہ حافظ زین الدین عبدالرحیم ابن الحسین العراقی اور موضوعات کبیر مصنفہ ملا علی بن محمد سلطان قاری اور مقدمہ ابن صلاح وغیرہ۔