سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 12 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 12

۱۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمارے سامنے یہ یہ واقعہ پیش آیا تھا وغیر ذالک۔روایت کا یہ ایک بہت سادہ سا نقشہ ہے، ورنہ عملاً بیان کرنے کے کئی طریقے تھے اور فن اصولِ حدیث کے علماء نے ہر طریق کے متعلق مفصل بحث کر کے ان کے مدارج قائم کر دیئے ہیں۔بہر حال طریق روایت کی تفصیلی صورت جو بھی ہو یہ ایک ایسا محفوظ طریقہ ہے جس سے ہر روایت کی قدرومنزلت اس کے ہر درجہ پر جانچی جاسکتی ہے اور دلکشی کے لحاظ سے بھی اس میں ایک ایسا ذاتی عصر داخل ہے کہ جس سے نہ صرف وہ مجلس جس میں کوئی روایت بالآ خر بیان کی گئی تھی بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس بھی جس سے روایت کا آغاز ہوتا ہے ایک زندہ تصویر کے طور پر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔جیسا کہ اس مضمون کے شروع میں بیان کیا گیا ہے روایت کا یہ علم قبل از اسلام زمانہ میں بھی عربوں میں ایک حد تک رائج تھا ، مگر اسلام میں آکر وہ ایک نہایت منظم اور سائنٹیفک علم بن گیا جس کی امداد کے لیے کئی ضمنی علوم کی ایجاد بھی وقوع میں آئی۔اس جگہ اس علم کی ساری تفصیلات کے بیان کرنے کی تو گنجائش نہیں، مگر مختصر طور پر اس علم کا ڈھانچہ بصورت ذیل سمجھا جا سکتا ہے۔روایت و درایت کے اصول اصل الاصول اس علم کا یہ ہے کہ ہر واقعہ کی صحت دوطریق پر آزمائی جاسکتی ہے اور جب تک ان دونوں طریق سے کسی واقعہ کی صحت پایہ ثبوت کو نہ پہنچ جاوے اس پر پورا اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔پہلا طریق روایت ہے۔یعنی یہ دیکھنا کہ جو واقعہ ہم تک پہنچا ہے، اس کی صحت کے متعلق بیرونی شہادت کیسی میسر ہے یعنی جس واسطہ سے وہ ہم تک پہنچا ہے وہ واسطہ کس حد تک قابل اعتماد ہے۔دوسرا طریق درایت ہے یعنی یہ دیکھنا کہ واقعہ کی صحت کے متعلق اندرونی شہادت کیسی موجود ہے۔یعنی قطع نظر واسطہ کے کیا وہ واقعہ اپنی ذات میں اور اپنے ماحول کی نسبت سے ایسا ہے کہ اُسے درست اور صحیح یقین کیا جائے۔یہ وہ دو بنیادی اصول ہیں جو مسلمانوں نے اپنے ہر روایتی اور تاریخی علم کی پڑتال کے لیے ایجاد کئے۔اور ابتدائے اسلام سے ان کا اس پر عمل رہا ہے۔ان ہر دو اصول کے ماتحت بہت سے قابلِ لحاظ اُمور قرار دیئے گئے ہیں جن میں سے زیادہ معروف امور کو ہم اپنے الفاظ میں درج ذیل کرتے ہیں : -1 روایت کے اصول کے ماتحت یہ باتیں زیادہ قابل لحاظ قرار دی گئی ہیں : راوی معروف الحال ہو۔را وی صادق القول اور دیانت دار ہو۔-۲