سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 249

۲۴۹ الغرض اسلام کے لیے یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔مکہ والوں کی طرف سے تو ایک گونہ ناامیدی ہو چکی تھی مگر مدینہ میں امید کی کرن پیدا ہو رہی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی توجہ کے ساتھ اس طرف نظر لگائے ہوئے تھے کہ آیا مدینہ بھی مکہ اور طائف کی طرح آپ کو رد کرتا ہے یا کہ اس کی قسمت دوسرے رنگ میں لکھی ہے؛ چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو آپ بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منی کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ناگاہ آپ کی نظر اہل بیثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپ کو دیکھ کر فوراً پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپ کو ملے۔اب کے یہ بارہ اشخاص تھے جن میں سے پانچ تو وہی گذشتہ سال کے مصدقین تھے اور سات نئے تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔-1 ان کے نام یہ ہیں : ابوامامه اسعد بن زراره عوف بن حارث رافع بن مالک یہ پانچ اصحاب سابقہ مصدقین میں سے تھے ۴- قطبہ بن عامر -7 -2 عقبہ بن عامر معاذ بن حارث ذکوان بن عبد قیس از قبیله بنی نجار از قبیله بنوزریق (خزرج) (خزرج) ( حلیف خزرج ) از بنی عوف (خزرج) (خزرج) از بنی عبد الا شهل (اوس) از بنی عمر و بن عوف (اوس) -9 - 1+ ابو عبد الرحمن یزید بن ثعلبه از بنی بلی عبادہ بن صامت عباس بن عبادہ بن نضله از بنی سالم 11- ابوالہیثم بن تیہان ۱۲- عویم بن ساعده آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھائی میں ان سے ملے۔انہوں نے یثرب کے حالات سے اطلاع دی اور اب کی دفعہ سب نے باقاعدہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ بیعت مدینہ میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھی۔چونکہ اب تک جہاد بالسیف فرض نہیں ہوا تھا، اس لیے