سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 11
11 میں آپ کی ایک ایسی کامل و مکمل تصویر پیچھے چھوڑی کہ جس کے کمال کی نظیر دنیا کی کسی اور تصویر میں نظر نہیں آتی۔حدیث میں صحابہ کے اقوال پڑھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کس طرح صحرائے عرب کے ان ناخواندہ بادیہ نشینوں نے اپنے آقا وسردار کی ہر حرکت و سکون کو لوح تاریخ پر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح سوتے تھے اور کس طرح جاگتے تھے۔کس طرح کھاتے تھے اور کس طرح پیتے تھے۔کس طرح اُٹھتے تھے اور کس طرح بیٹھتے تھے اور کس طرح چلتے تھے اور کس طرح کھڑے ہوتے تھے۔کس طرح بولتے تھے اور کس طرح خاموش رہتے تھے۔کس طرح ہنتے تھے اور کس طرح روتے تھے۔کس طرح خوش ہوتے تھے اور کس طرح ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے۔کس طرح گھر میں رہتے تھے اور کس طرح سفر میں وقت گزارتے تھے۔کس طرح بیویوں سے ملتے تھے اور کس طرح بچوں سے ہمکلام ہوتے تھے۔کس طرح عزیزوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے اور کس طرح غیروں کے ساتھ معاملہ رکھتے تھے۔کس طرح دوستی نبھاتے تھے اور کس طرح دشمنوں کے ساتھ پیش آتے تھے۔کس طرح صلح میں کام کرتے تھے اور کس طرح جنگ میں لڑتے تھے۔کس طرح بندوں کا حق ادا کرتے اور کس طرح خُدا کا حق بجالاتے تھے۔کس طرح اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے اور کس طرح اسے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔غرض آپ کی زندگی کی تصویر کا ہر پہلو اپنی پوری پوری تفصیل میں اور اپنے باریک در بار یک خط و خال کے ساتھ ہمارے سامنے محفوظ ہے۔حدیث کی کسی کتاب کو ہاتھ میں لے کر اس کی ورق گردانی کریں اس کے ہر صفحہ پر آپ کی تصویر کا کوئی نہ کوئی پہلو زندگی کی اصل آب و تاب میں چمکتا ہوا نظر آئے گا۔اور یوں محسوس ہوگا کہ ایک جیتی جاگتی تصویر اپنی پوری دلکشی کے ساتھ ہمارے سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔روایت کا طریقہ اس جگہ غیر مسلم ناظرین کی واقفیت کے لیے یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ روایت بیان کرنے کا طریق مسلمانوں میں اس طرح رائج تھا کہ نیچے کے راوی سے شروع ہو کر درجہ بدرجہ ہر راوی کا نام لیتے ہوئے اوپر کو چلتے جاتے تھے حتی کہ روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا آپ کے کسی صحابی پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی روایت حدیث کہلاتی ہے اور صحابی تک پہنچ کر ختم ہو جانے والی روایت اثر کہلاتی ہے۔اور ان میں سے ہر ایک کی بہت سی صورتیں ہیں۔طریق بیان عموماً یوں ہوتا تھا کہ :۔مجھ سے الف نے بیان کیا اور الف نے سب سے سنا تھا۔اور سب سے نت نے روایت کی تھی اور ت کو حج نے خبر دی تھی کہ ایک مجلس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے فلاں امر کے متعلق یہ الفاظ بیان فرمائے تھے یا یہ کہ