سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 237 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 237

۲۳۷ یعنی ” سچا مسلمان وہ ہے کہ جو ان سب چیزوں اور سب طاقتوں کو جو خدا نے اُسے عطا کی ہیں خواہ وہ جسمانی ہیں یا روحانی۔مادی ہیں یا غیر مادی ہمارے رستے میں خرچ کرتا ہے اور ہر ایک چیز میں سے جو ہم نے اُسے دی ہے ہما راحق نکالتا ہے۔“ پس اسلام ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ عبادت کا حق صرف روح کے ذمہ ہے اور جسم اس سے آزاد ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے روح اور جسم دونوں اس بوجھ کے نیچے ہیں اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا ہو۔دوسرے یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ہر روح یعنی سپرٹ کے لیے کسی نہ کسی جسم یعنی ظاہری فارم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ کوئی روح بغیر جسم کے زندہ نہیں رہ سکتی اور جو شخص کسی روح کو جسم کے بغیر زندہ رکھنے کی سعی کرتا ہے وہ یقیناً بہت جلد روح کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔مثلاً بزرگوں اور افسروں کا ادب و احترام ایک سراسر روحانی کیفیت ہے مگر کیا کوئی شخص اس جذبہ کی روح کو بغیر کسی ظاہری اور جسمانی پابندی کے زندہ رکھ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔یقینا اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اپنے بزرگوں اور افسروں کے سامنے بھی اسی طرح آزادی اور بے پروائی کے ساتھ رہتے ہوئے جس طرح میں اپنے ہم عمر دوستوں یا اپنے عزیزوں وغیرہ کے ساتھ رہتا ہوں ان کے ادب و احترام کے جذ بہ کو اپنے دل میں قائم رکھ سکتا ہوں تو اس کا یہ دعوئی غلط اور باطل ہوگا اور ایسا شخص بہت جلد ادب و احترام کی روح کو ضائع کر کے خالی ہاتھ رہ جائے گا۔دراصل فطرت انسانی کے ماتحت روح اور جسم کے درمیان ایک ایسا گہرا رابطہ اور عمیق تعلق ہے کہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور یہ دونوں چیزیں ہر وقت ایک غیر معلوم مگر حکیمانہ قانون کے ماتحت ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔مثلاً اگر ایک انسان تکلف کے ساتھ رونے کی شکل بنائے تو وہ محسوس کرے گا کہ اس ظاہری تبدیلی کے ساتھ ہی اس کے دل کے اندر بھی غم والم کی کیفیت پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص کا دل مغموم ہے مگر کسی وجہ سے اس کے ظاہری جسم میں بنسی کی صورت پیدا کر دی جاوے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دل کا غم خوشی میں مبدل ہونا شروع ہو جائے گا۔پس عبادات میں جسم یعنی ظاہری فارم اور شکل وصورت کا تجویز کیا جانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جسم اور روح ایک دوسرے کے ساتھ غیر منفک صورت میں پیوست ہیں اور جسم کو شامل کرنے کے بغیر عبادت کی روح ہرگز زندہ نہیں رہ سکتی اور لحظہ بہ لحظہ کمزور ہو کر بہت جلد مرجاتی ہے۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے ہر نظام میں ہر روح کے لیے کوئی نہ کوئی جسم مقرر کیا جاتا ہے اور تعجب ہے کہ جولوگ اسلامی عبادات پر زیادہ معترض ہیں وہی اس مزعومہ ” ظاہر پرستی میں دوسروں سے آگے نکلے ہوئے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ