سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 10
چیز قرار پاتا ہے جس سے ان ہر دو کے متعلق تمام تحقیق طلب امور کو پوری صحت کے ساتھ جانچا جاسکتا ہے۔قرآن شریف میں ہمیں وہ ذخیرہ میسر ہے جس میں محمد کے الفاظ خود آپ کی زندگی میں محفوظ کر لیے گئے تھے۔اور یہ ریکارڈ آپ کی زندگی کے ہر حصہ سے یعنی آپ کے مذہبی خیالات سے، آپ کے پبلک افعال سے، آپ کی خانگی سیرت سے یکساں تعلق رکھتا ہے۔۔۔حقیقۂ محمد کی سیرت کے لئے قرآن ایک ایسا سچا آئینہ ہے کہ اسلام کے سارے ابتدائی زمانہ میں یہ بات بطور ایک مثل اور کہاوت کے مشہور تھی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ساری سیرت قرآن میں ہے۔پھر انگلستان کا مشہور مسیحی مستشرق پروفیسر نکلسن اپنی انگریزی تصنیف ”عرب کی ادبی تاریخ “ میں لکھتا ہے: اسلام کی ابتدائی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے قرآن ایک بے نظیر اور ہر شک وشبہ سے بالا کتاب ہے اور یقیناً بدھ مذہب یا مسیحیت یا کسی قدیم مذہب کو اس قسم کا مستند عصری ،، ریکارڈ حاصل نہیں ہے ، جیسا کہ قرآن میں اسلام کو حاصل ہے۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کے لیے قرآن شریف نہ صرف اسلامی لٹریچر میں سب سے زیادہ مستند اور صحیح ریکارڈ ہے بلکہ آپ کی سیرت کے تعلق میں اسے وہ پوزیشن حاصل ہے جو دُنیا کی کسی کتاب کو دنیا کے کسی اور فرد کے متعلق حاصل نہیں ہے۔اور اس کی صحت بھی اس پائے کی ہے کہ دوست تو دوست کسی بدترین دشمن کو بھی اس کے متعلق حرف گیری کی جرات نہیں ہو سکتی۔تاریخ اسلام کا روایتی ماخذ تاریخ ابتدائے اسلام اور سیرتِ رسول کے لیے دوسرا بڑا ماخذ وہ روایات ہیں جو بصورت حدیث یا تفسیر یا سیرت و مغازی ابتدائے اسلام میں ایک منظم سلسلہ روایت کے ذریعہ صحابہ سے تابعین تک اور تابعین سے نتبع تابعین تک اور تبع تابعین سے ان کے بعد آنے والے لوگوں تک پہنچیں اور پھر باقاعدہ کتابوں کی صورت میں ضبط تحریر میں آکر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئیں۔اس ذخیرہ کا پایہ بھی دوسری اُمتوں کی تاریخ کے مقابلہ پر بہت بلند ہے۔اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی جماعت عطا فرمائی تھی جس نے اپنے اخلاص اور جوش محبت میں آپ کی ہر حرکت و سکون کا نظر غور کے ساتھ مطالعہ کیا اور اپنی عدیم المثال قلمی مصوری ل : لائف آف محمد دیبا چه صفحه ۲۶ : ”عرب کی ادبی تاریخ ، صفحہ ۱۴۳