سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 233 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 233

۲۳۳ اسلامی نماز کی ظاہری شکل وصورت جو خدائی حکم کے ماتحت قائم کی گئی ہے یہ ہے کہ نماز کی ابتدا قیام کی حالت سے ہوتی ہے۔جبکہ نماز پڑھنے والا اپنے سینہ پر ہاتھ باندھ کر خدا کے سامنے موڈبا نہ کھڑا ہوتا ہے۔اس کے بعد رکوع کی حالت ہے جو گویا خدا کی تعظیم اور بندے کے تذلل کا دوسرا درجہ ہے جبکہ نماز پڑھنے والا قیام کی حالت کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک کے سامنے دو ہرا ہوکر جھک جاتا ہے۔تیسر کی حالت سجدہ کی ہے جو ایک درمیانی قیام کے بعد آتی ہے جبکہ نماز پڑھنے والا انتہائی عاجزی اور تذلل کی صورت میں خدا کے سامنے زمین پر گر کر اپنی جبین نیاز اس کے آگے رکھ دیتا ہے اور چونکہ یہ حالت انتہائی تذلل اور تعبد کی حالت ہے، اس لیے اسے ایک درمیانی وقفہ کے ساتھ دو دفعہ دہرایا جاتا ہے اور اس طرح نماز کی ایک رکعت پوری ہو جاتی ہے۔جس کے بعد اسی صورت میں دوسری اور تیسری اور چوتھی رکعت پڑھی جاتی ہے اور آخر میں نماز پڑھنے والا قعدہ میں دوزانو بیٹھ کر جو گویا ایک مقرب اور تسکین یافته درباری کی کیفیت ہے، اپنی نماز کو تکمیل تک پہنچاتا ہے۔نماز کی ہر حالت یعنی قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ کے لیے علیحدہ علیحدہ کلمات جو ہر حالت کے مناسب حال دعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ پر مشتمل ہیں مقرر کر دیئے گئے ہیں مگر ساتھ ہی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ علاوہ مقررہ کلمات کے نماز پڑھنے والا اپنی زبان میں بھی جس طرح مناسب خیال کرے نماز کے اندر دعا اور تحمید اور تسبیح وغیرہ سے کام لے سکتا ہے یا نماز میں اتحاد فی الصورت کی غرض سے یہ پابندی بھی لگائی گئی ہے کہ خواہ کوئی مسلمان کسی جگہ ہو وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرے۔اور سوائے کسی ناگزیر مجبوری کے یہ بھی لازمی ہے کہ ایک محلہ یا گاؤں یا قصبہ کے سب مسلمان مقررہ اوقات میں مسجد میں جمع ہو کر یا اگر مسجد نہ ہو تو کسی دوسری جگہ میں اکٹھے ہو کر ایک امام کی اقتدا میں نماز ادا کیا کریں تاکہ ان کی اجتماعی زندگی کا شیرازہ بجائے منتشر ہونے کے دن بدن مضبوط ہوتا چلا جاوے۔نماز میں نشاط کی کیفیت پیدا کرنے اور خدا کے دربار میں صفائی کی حالت میں پیش ہونے کی غرض سے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ نماز سے پہلے ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے جسم کی ہر سہ اطراف کو یعنی منہ ہاتھ اور پاؤں کو پانی سے دھو لیا کرے۔اس عمل کو اسلامی اصطلاح میں وضو کہتے ہیں جو گویا نماز کی اغراض کے لیے غسل کا قائم مقام ہے۔الغرض معراج کے ساتھ اسلامی عبادات کے سب سے بڑے رکن کا قیام عمل میں آیا اور پانچ وقت کی : کشتی نوح مصنفہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ قرآن شریف سورۃ مائدہ : ۷ قرآن شریف سورۃ بقره : ۱۴۵