سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 9
پھر لکھتے ہیں : ”ہم یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی ہر آیت محمد سے لے کر آج تک اپنی اصلی اور غیر محرف صورت میں چلی آئی ہے۔166 نولڈ کی جو جرمنی کا ایک نہایت مشہور عیسائی مستشرق گذرا ہے اور جو اس فن میں گویا اُستاد مانا گیا ہے قرآن شریف کے متعلق لکھتا ہے کہ : - یورپین علماء کی یہ کوشش کہ قرآن میں کوئی تحریف ثابت کریں قطعا نا کام رہی ہے۔“ اس خصوصیت کے علاوہ کہ قرآن شریف اپنے زمانہ نزول سے لے کر آج تک بالکل محفوظ چلا آیا ہے، ایک بڑی خصوصیت قرآن شریف میں یہ بھی ہے کہ بوجہ اس کے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوت کی زندگی کے دوران میں آہستہ آہستہ کر کے نازل ہوا تھا۔آپ کی نبوت کی زندگی کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر قرآن شریف کے کسی نہ کسی حصہ سے براہ راست روشنی نہ پڑتی ہو اور یہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی عملی تفسیر ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری سیرت قرآن میں آجاتی ہے۔گویا قرآن شریف وہ کتاب ہے جس میں آپ کے اخلاق و عادات اور آپ کی روزانہ زندگی کے حالات ہر روز ساتھ ساتھ قلمبند ہوتے جاتے تھے اور یقیناً دنیا کی تاریخ میں اور کوئی ایسا شخص نہیں گذرا جس کی سیرت کے متعلق اس قدر مضبوط اور مستند عصری ریکارڈ محفوظ ہو۔بیشک بعض ایسے لوگ گزرے ہیں اور اس زمانہ میں بھی پائے جاتے ہیں جن کی سوانح عمریاں ان کی زندگی میں ہی یا ان کی وفات کے جلد بعد شائع ہو گئی ہیں مگر جو خصوصیت قرآن شریف کے وجود میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ گویا آپ کی روزانہ زندگی ہر روز ساتھ ساتھ ضبط میں آتی گئی ہے وہ آج تک کسی اور فرد بشر کو نصیب نہیں ہوئی۔مغربی محققین نے قرآن شریف کی اس خصوصیت کا بھی کھلے الفاظ میں اقرار کیا ہے؛ چنانچہ سرولیم میورلکھتا ہے: قرآن کی یہ خصوصیت اس قدر اہم ہے کہ اس میں کسی مبالغہ کی گنجائش نہیں۔اس خصوصیت کی وجہ سے محمد کی سیرت و سوانح اور آغاز اسلام کی تاریخ کے لئے قرآن ایک بنیادی : لائف آف محمد دیبا چه صفحه ۲۱ ۲۲، ۲۶،۲۵ : انسائیکلو پیڈیا برٹینی کا زیر لفظ قرآن : صحیح مسلم، ابوداؤد و نسائی بحوالہ تفسیر ابن کثیر زیر تیسیر اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:۵)