سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 217
۲۱۷ اللہ تعالیٰ نے مکہ کی مسجد حرام سے لے کر بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی تو اس پر کفار مکہ نے جن میں سے بعض بیت المقدس کو دیکھ چکے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیت المقدس نہیں گئے۔یہ اعتراض کیا کہ اگر آپ کا یہ دعویٰ درست ہے تو آپ بیت المقدس کا کوئی نظارہ بیان کریں۔اس پر آنحضرت کی طبیعت میں بے چینی پیدا ہوئی کیونکہ گو آپ رؤیا میں بیت المقدس کو دیکھ چکے تھے مگر آپ جانتے تھے کہ یہ ایک رؤیا کا معاملہ ہے جس میں ممکن ہے کہ آپ کے ذہن کا نقشہ ظاہر کے ساتھ بالکل مطابقت نہ کھاتا ہو اور آپ کو رڈیا کے مخصوص مناظر کے سوا بیت المقدس کے عام مناظر کا علم بھی نہیں تھا اس لیے طبعاً آپ کو کفار کے اس اعتراض پر لوگوں کی ٹھوکر کے خیال سے فکر پیدا ہوا مگر اللہ تعالیٰ نے فوراً کشفی رنگ میں بیت المقدس کا ظاہری نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کیا اور آپ نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرماتے ہوئے کفار کو بتایا کہ بیت المقدس کی یہ یہ نشانیاں ہیں۔اس پر کفار شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔اب اگر اسراء اس ظاہری جسم کے ساتھ ہوا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کے مناظر کو واقعی اپنی ان جسمانی آنکھوں کے ساتھ ملا حظہ فرما چکے تھے۔تو کفار کے اعتراض پر آپ کو فکرمند ہونے اور اللہ تعالیٰ کو بیت المقدس کا دوبارہ نظارہ کروانے کی کیا ضرورت تھی؟ کفار کے اعتراض پر آپ کا فکرمند ہونا اور خدا تعالیٰ کا دوبارہ نظارہ دکھا نا صاف ظاہر کرتا ہے کہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قبل بیت المقدس کو حقیقی طور پر نہیں دیکھا تھا اور صرف اعتراض ہونے پر اس کا حقیقی نظارہ دکھایا گیا اور پہلا نظارہ جو اسراء کے موقع پر ہوا تھا، اس میں بیت المقدس کا نقشہ صرف عالم رؤیا کا ایک اجمالی نقشہ تھا جس کی بنا پر آپ اس بستی کی تفصیلات نہیں بتا سکتے تھے۔الغرض قرآن شریف اور احادیث اور تاریخ تینوں سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ معراج اور اسراء خالصۂ روحانی امور تھے جو بعض خاص مصالح کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے اور جن لوگوں نے اس کے خلاف ادعا کیا ہے ان کے ہاتھ میں سوائے کمزور اور بودے استدلالات کے اور کچھ نہیں۔ہاں جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ہماری مراد معراج اور اسراء کے روحانی ہونے سے ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ نظارے معمولی خواب کے نظارے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند کی حالت میں دکھائے گئے۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے اس نے اسراء اور معراج کی حقیقت کو ہرگز نہیں سمجھا اور یقیناً وہ ان لوگوں سے بڑھ کر غلطی خوردہ ہے جو ان مناظر کو جسمانی اور ظاہری حالت کے ساتھ وابستہ قرار دیتے ہیں لے: دیکھو بخاری تفسیرسورۃ بنی اسرائیل آیت اسراء ومسلم باب فی ذکر مسیح ابن مریم تفسیر ابن کثیر آیت اسراء