سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 206 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 206

۲۰۶ داخل ہو گئے۔راستہ میں ابو جہل نے مطعم کو اس حالت میں دیکھا تو حیران ہو کر کہنے لگا۔امجير ام تابع - یعنی کیا تم نے محمد کو صرف پناہ دی ہے یا اس کے تابع ہو گئے ہو۔“؟ مطعم نے کہا۔”میں صرف پناہ دینے والا ہوں تابع نہیں ہوں۔“ اس پر ابو جہل نے کہا۔”اچھا پھر کوئی حرج نہیں۔‘ مطعم کفر کی حالت میں ہی فوت ہوا مگر مسلمان ناقدر شناس نہیں تھے۔حضرت حسان بن ثابت انصاری نے جو گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درباری شاعر تھے مطعم کے اس شریفانہ برتاؤ پر اس کی مدح میں زور دار اشعار کہے جو ان کے دیوان میں اب تک محفوظ ہیں۔طائف کا سفر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک خاص واقعہ ہے۔اس سفر کے حالات سے آپ کی ارفع شان اور بلند ہمتی اور بے نظیر صبر و استقلال کا پتہ چلتا ہے؛ چنانچہ سرولیم میورلکھتا ہے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے سفر طائف میں عظمت اور شجاعت کا رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ایک تنہا شخص جسے اُس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور رڈ کر دیا۔وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور جس طرح یونس بن متی نینوا کو گیا اسی طرح وہ ایک بت پرست شہر میں جا کر اُن کو تو حید کی طرف بلاتا اور تو بہ کا وعظ کرتا ہے۔اس واقعہ سے یقینا اس بات پر بہت روشنی پڑتی ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے صدق دعویٰ پر کس درجہ ایمان تھا۔“ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو کبھی جنگ احد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی ہے؟ آپ نے فرمایا۔عائشہ تیری قوم کی طرف سے مجھے بڑی بڑی سخت گھڑیاں دیکھنی پڑی ہیں۔پھر آپ نے سفر طائف کے حالات سنائے اور فرمایا کہ اس سفر سے واپسی پر میرے پاس پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہنے لگا کہ مجھے خدا نے آپ کے پاس بھیجا ہے تا اگر ارشاد ہو تو میں یہ پہلو کے دونوں پہاڑ ان لوگوں پر پیوست کر کے ان کا خاتمہ کر دوں۔“ آپ نے فرمایا۔نہیں نہیں۔مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں میں سے وہ لوگ پیدا کر دے گا جو 66 خدائے واحد کی پرستش کریں گے۔“ طائف کے سفر کے متعلق یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنات کا وفد ل : بخاری کتاب بدء الخلق روایت آئی ہے کہ جب آپ