سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 204
۲۰۴ اہمیت کا خود مکہ والوں کو بھی اقرار تھا چنانچہ یہ مکہ والوں کا ہی قول ہے کہ : لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمِ د یعنی اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا۔“ غرض شوال ۱۰ نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف اکیلے تشریف لے گئے۔۔یا بعض روایتوں کی رو سے زید بن حارثہؓ بھی ساتھ تھے۔" وہاں پہنچ کر آپ نے دس دن قیام کیا اور شہر کے بہت سے رؤساء سے یکے بعد دیگرے ملاقات کی ،مگر اس شہر کی قسمت میں بھی مکہ کی طرح اس وقت اسلام لانا مقدر نہ تھا۔چنانچہ سب نے انکار کیا بلکہ ہنسی اڑائی۔آخر آپ نے طائف کے رئیس اعظم عبدیالیل کے پاس جا کر اسلام کی دعوت دی مگر اس نے بھی صاف انکار کیا بلکہ تمسخر کے رنگ میں کہا کہ اگر آپ سچے ہیں تو مجھے آپ کے ساتھ گفتگو کی مجال نہیں اور اگر جھوٹے ہیں تو گفتگو لا حاصل ہے اور پھر اس خیال سے کہ کہیں آپ کی باتوں کا شہر کے نوجوانوں پر اثر نہ ہو جائے ، آپ سے کہنے لگا بہتر ہوگا کہ آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ یہاں کوئی شخص آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔اس کے بعد اس بد بخت نے شہر کے آوارہ آدمی آپ کے پیچھے لگا دیئے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہر سے نکلے تو یہ لوگ شور کرتے ہوئے آپ کے پیچھے ہو لئے اور آپ پر پتھر برسانے شروع کئے جس سے آپ کا سارا بدن خون سے تر بتر ہو گیا۔برابر تین میل تک یہ لوگ آپ کے ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور پتھر برساتے چلے آئے۔طائف سے تین میل کے فاصلہ پر مکہ کے رئیس عتبہ بن ربیعہ کا ایک باغ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں آ کر پناہ لی اور ظالم لوگ تھک کر واپس لوٹ گئے۔یہاں ایک سایہ میں کھڑے ہو کر آپ نے اللہ کے حضور یوں دعا کی : اللَّهُمَّ إِلَيْكَ اَشْكُرُ ضُعْفَ قُوَّتِي وَ قِلَّةَ حِيْلَتِي وَهَوَا نِي عَلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي - الخَ یعنی ”اے میرے رب میں اپنے ضعف قوت اور قلت تدبیر اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی ا : سورۃ زخرف : ۳۲ : ابن سعد : ابن سعد : ابن ہشام و طبری ۵ : حدیث میں ابن عبدیالیل کا نام آیا ہے۔دیکھو بخاری کتاب بدء الخلق ذکر الملائکہ